فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس فائلنگ کا عمل آسان بنانے کے لیے ایک نیا انٹرایکٹو ریٹرن فارم متعارف کروایا ہے۔ یہ فارم ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کو خودکار طریقے سے یکجا کرے گا اور مکمل ریٹرن فارم تیار کرے گا۔فارم میں 8 آسان مراحل ہوں گے، جہاں ہر مرحلے پر رہنمائی کے لیے سوالات دیے جائیں گے۔ صارف کے شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور رجسٹرڈ خریداریوں کی تفصیلات خودکار طور پر شامل ہوں گی۔یہ فارم فی الحال انگریزی میں دستیاب ہے، جبکہ اردو، سندھی، پشتو، پنجابی اور بلوچی زبانوں میں بھی جلد متعارف کرایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ریٹرن کا عمل سادہ، مختصر اور مکمل ڈیجیٹل ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ:
-
50 ہزار روپے سے کم انکم ٹیکس ریفنڈز ایک ماہ میں جاری کیے جائیں
-
اردو زبان میں ڈیجیٹل انوائسنگ نظام متعارف کرایا جائے
-
ایک ہیلپ لائن قائم کی جائے تاکہ عوام کو رہنمائی دی جا سکے
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) شامل کی جا رہی ہے اور تمام ڈیجیٹل اصلاحات کی تھرڈ پارٹی تصدیق بھی کی جائے گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
ڈیجیٹل انوائسنگ اور کاروباری نظام کی بہتری
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کے ذریعے تمام کاروبار خرید و فروخت کی رسیدیں ایف بی آر کے آن لائن پلیٹ فارم پر جاری کریں گے۔ تقریباً 20 ہزار کاروبار جلد اس نظام میں شامل ہوں گے۔تاجروں کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور مکمل نفاذ کے بعد انہیں علیحدہ سیلز ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرانا پڑے گا۔
ڈیجیٹل معیشت اور عوامی سہولت
وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کو ڈیجیٹل بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاکہ:
-
شفافیت بڑھے
-
ادائیگیوں کا نظام آسان ہو
-
عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مضبوط ہو
انہوں نے "راست” کے بورڈ میں ماہرین شامل کرنے اور موبائل بینکاری کو فروغ دینے کی بھی ہدایت دی۔توقع ہے کہ اگلے چند ماہ میں موبائل ایپس اور ڈیجیٹل بینکاری کے صارفین کی تعداد 12 کروڑ تک پہنچ جائے گی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حجم 15 ارب روپے تک بڑھ جائے گا۔







Discussion about this post