پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا سلسلہ جاری ہے، کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے کے ایس ای 100 انڈیکس کو ایک لاکھ 44 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے اوپر پہنچا دیا۔ بدھ کے روز انڈیکس میں 1,145 پوائنٹس کا شاندار اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 1,44,182 پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ حکومت کا مالی خسارہ گزشتہ 9 برس کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ پی ایس ایکس کے اعدادوشمار کے مطابق صبح 10 بج کر 49 منٹ تک 444 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں 294 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 130 میں کمی جبکہ 20 کمپنیوں کے شیئرز مستحکم رہے۔
ریکارڈ تیزی کی بڑی وجوہات
-
مالی سال 2025 میں حکومت کا بجٹ خسارہ صرف 5.38 فیصد، جو آئی ایم ایف کی پیش گوئی (5.6 فیصد) سے بھی کم۔
-
سالانہ آمدنی میں 36 فیصد اضافہ، اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کے مقابلے میں زیادہ۔
-
مالی نظم و ضبط اور معاشی استحکام پر مارکیٹ کا اعتماد۔
-
مکمل فنڈڈ ریمیٹنس اسکیم کے لیے سبسڈی کی بحالی اور بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کے حل کی امید۔
اہم کمپنیوں کی کارکردگی
فوجی فرٹیلائزر، یونائیٹڈ بینک، ایم سی بی بینک، حب پاور اور اینگرو فرٹیلائزر نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 679 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری جانب، پاکستان پیٹرولیم، بینک الحبیب اور حبیب بینک کے شیئرز میں کمی سے 142 پوائنٹس منفی اثر پڑا۔







Discussion about this post