ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ ایران دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں بھیجے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کا اس وقت مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے سیز فائر کی صریح خلاف ورزی کی ہے اور ہم نے اس کی مکمل تفصیل پاکستانی ثالث کار کو بتا دی ہے۔ ترجمان نے امریکی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بندرگاہوں اور ساحلی پٹی پر امریکی ناکہ بندی سیز فائر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے قطری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ہم موجودہ مذاکرات کو میدان جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ ضرور کیا ہے، مگر یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر بات چیت کریں یا دوسرے فریق کے ہر مطالبے کو قبول کر لیں۔ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز واضح طور پر مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ناگزیر ہے۔ ہماری مذاکراتی حکمت عملی مکمل طور پر قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق تیار کی جاتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ خطے کی کشیدگی اور امریکی خلاف ورزی کے بعد مذاکرات کا مستقبل کیا ہوگا۔







Discussion about this post