بھارت میں نوٹوں اور قرض کے معاملے پر اخلاقیات کی حدیں پار ہو گئیں، جب ایک خاتون نے فوجی دستے کے مقروض اہلکار کو انتہائی سخت اور توہین آمیز زبان میں باتیں سُنا دیں۔خاتون نے اہلکار سے کہا:
"تم جاہل ہو، پڑھے لکھے ہوتے تو سرحد پر نہ بھیجے جاتے بلکہ کسی اچھی کمپنی میں کام کرتے، دوسروں کا مال ہڑپ نہ کرو، اسی لیے تمہارے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔”
اہلکار کے جواب پر خاتون نے کہا:
"تم مجھے کیا سبق سکھاؤ گے، میری فیملی کا بھی فوج سے تعلق ہے، تم قرض پہ جی رہے ہو اور مجھے سکھاؤ گے۔”

یہ معاملہ قرض واپسی کے تنازع پر پیش آیا اور ٹیلی فون کالر انورادھا ورما کی آڈیو وائرل ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر آڈیو وائرل ہونے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ خاتون انڈیا کے بینک سے منسلک ہے، تاہم بینک نے وضاحت دی کہ وہ اس کی ملازمہ نہیں۔ تاہم لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ بینک کی ملازمہ نہیں تو اسے بینک کا ڈیٹا کیسے حاصل ہوا؟ بعد ازاں خاتون کی آڈیو کے ساتھ اس کی معافی بھی وائرل ہوئی، جس میں اس نے کہا:
"آڈیو اور ویڈیو کالز نہ کریں، اور گندے میسج بھی نہ بھیجیں۔”
اس کے علاوہ، اہلکار سے معافی کی آڈیو بھی منظر عام پر آئی، جس نے اس معاملے کو مزید دلچسپ اور متنازعہ بنا دیا۔







Discussion about this post