پاکستانی شوبز انڈسٹری ایک افسوسناک سانحے سے دوچار ہوئی ہے۔ معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی۔ ان کی پراسرار موت نے
تفتیش کا دائرہ وسیع
تفتیشی حکام کے مطابق فلیٹ کے دروازے کی تین چابیاں اندر سے برآمد ہوئی ہیں، جس سے ابتدائی طور پر کسی زبردستی داخلے کے امکان کو مسترد کیا جا رہا ہے۔فلیٹ کے باہر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں، جس سے تفتیش کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
شخصیات شاملِ تفتیش
تحقیقات کے دوران بلڈنگ کی انتظامیہ، چوکیدار اور سابقہ گھریلو ملازمہ کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد اکتوبر 2024 تک حمیرا اصغر سے کسی نہ کسی شکل میں رابطے میں تھے، تاہم اداکارہ کی ملازمہ کئی ماہ قبل ملازمت چھوڑ چکی تھی۔
کیسے ہوا انکشاف؟
واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب کرائے کی مسلسل عدم ادائیگی پر مکان مالک کی درخواست پر عدالتی بیلف فلیٹ پر پہنچا۔ دروازہ مسلسل دستک کے باوجود نہ کھلنے پر، بیلف نے عدالتی حکم پر دروازہ توڑا اور اندر کا منظر روح کو جھنجھوڑ دینے والا تھا: اداکارہ کی لاش فلیٹ میں موجود تھی۔
کیا مالی پریشانیاں موت کی وجہ بنیں؟
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اداکارہ مالی مشکلات کا شکار تھیں۔
-
انہوں نے ستمبر 2024 میں آخری کمرشل شوٹ کیا تھا
-
اور اکتوبر 2024 کے بعد ان کے کام سے متعلق رابطے بھی کم ہوتے گئے
شوبز حلقے افسردہ
اداکارہ حمیرا اصغر، جنہوں نے مختلف ڈراموں اور اشتہاری مہمات میں کام کیا، ایک باصلاحیت فنکارہ کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ ان کی اچانک موت نے شوبز انڈسٹری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور ان کے چاہنے والے اس پراسرار واقعے کے ہر پہلو پر جواب کے منتظر ہیں۔







Discussion about this post