ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے رنگا رنگ آغاز سے پہلے ٹرافی کی چمک دمک اور کپتانوں کی پرجوش پریس کانفرنس میں ایک منظر نے سب کی نظریں اپنی طرف کھینچ لیں۔بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو، جنہیں عام طور پر میدان میں صرف شاٹس اور اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے، اس بار کرکٹ نہیں بلکہ ایک مصافحہ کی وجہ سے شہہ سرخیوں میں آگئے۔
An Indian Captain posing for pictures & shaking hands with the Federal Home Minister of Pakistan is peak shamelessness on BCCI’s part. Mohsin Naqvi has blood on his hands and was calling for India’s destruction during Op Sindoor!! #AsiaCup pic.twitter.com/zZXa4ig595
— Atishay Jain (@AtishayyJain96) September 9, 2025
پریس کانفرنس کے بعد جیسے ہی سوریا کمار نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملایا اور پھر ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کو مبارکباد دی، سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا۔
ویڈیو نے پلک جھپکتے میں وائرل ہوکر نہ صرف خبروں کے ایوانوں میں گونج پیدا کی بلکہ بھارتی کپتان کو سخت تنقید کی بھٹی میں بھی جھونک دیا۔
Captain Suryakumar Yadav handshake with Pakistan’s interior minister Mohsin Naqvi who recently given India a threat after Operation Sindoor.
I don’t know how these people see their faces in mirror. They kill our innocent people & here we are handshaking with them. Shameful!! pic.twitter.com/QXZCHpMmcb
— Rajiv (@Rajiv1841) September 9, 2025
ایک بھارتی صارف نے کڑوی حقیقت لکھ ڈالی کہ "بھارتی کپتان کا پاکستان کے وزیر داخلہ سے ہاتھ ملانا اور تصویریں بنوانا بےشرمی کی انتہا ہے۔ یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے آپریشن سندور کے موقع پر بھارت کو تباہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔”
دوسرے بھارتی صارف نے غصے کی آگ میں لکھا: "یہ کیسا منظر ہے؟ وہ لوگ جن پر معصوم جانوں کا خون ہے، اُن سے ہاتھ ملا کر یہ کھلاڑی آئینے میں اپنا چہرہ کیسے دیکھتے ہیں؟ یہ شرمناک اور ناقابلِ قبول ہے۔”
From boycott to handshake ,India captain SKY meet Mohsin naqvi pic.twitter.com/dZ0BhSEh8K
— Huzaifa khan (@HuzaifaKhan021) September 9, 2025
تیسرے صارف نے طنز کا تیر چلاتے ہوئے کہا: "کل تک بائیکاٹ کی باتیں ہو رہی تھیں، آج مصافحے کے مناظر۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کا محسن نقوی سے ہاتھ ملانا ایک لمحے میں سب کو حیران کر گیا۔یوں ایک چھوٹا سا مصافحہ سرحدوں کے اُس پار بھی طوفان بن گیا اور کھیل کے میدان سے زیادہ سیاست کے ایوانوں میں گونجنے لگا۔







Discussion about this post