ایشیا کپ 2025 کے حوالے سے بھارت میں ایک بار پھر شور و غوغا، افواہوں اور سیاسی مداخلت کا بازار گرم ہے۔ تاہم **کرکٹ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگر بھارتی ٹیم ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ کھیلنے سے انکار کرتی ہے تو یہ فیصلہ براہ راست پاکستان کے حق میں جائے گا، اور پوائنٹس واک اوور کے تحت گرین شرٹس کو دے دیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ ایشیا کپ 2025 کا باضابطہ شیڈول بھارتی حکومت کی اجازت کے بعد جاری کیا گیا، جس میں بھارت نے شرکت اور پاکستان کے خلاف کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ایونٹ 9 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوگا، جس میں 8 ٹیمیں شرکت کریں گی، اور پاکستان و بھارت کا کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ تین بار آمنا سامنا متوقع ہے۔ تاہم بھارت میں بعض حلقے اب بھی پاکستان کے خلاف میچ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے کہ روایتی حریفوں کے درمیان میچ کو کسی طرح منسوخ کرایا جائے بالکل ویسے ہی جیسے حالیہ ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان اور بھارت کا فائنل سبوتاژ کیا گیا۔
بی سی سی آئی حکومتی دائرہ اختیار سے باہر؟
بھارتی وزارتِ کھیل نے دباؤ کے جواب میں وضاحت دی ہے کہ چونکہ نیشنل اسپورٹس گورننس بل ابھی منظور نہیں ہوا، اس لیے بی سی سی آئی حکومت کے تابع ادارہ نہیں، اور وہ کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکتے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ صرف انتظار کریں گے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ عوامی جذبات کو کیسے دیکھتا ہے۔

میچ کا بائیکاٹ = واک اوور
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر بی سی سی آئی پاکستان سے میچ کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو یہ کوئی باہمی سیریز نہیں بلکہ ایک ملٹی نیشن ٹورنامنٹ ہے، جس کے ضوابط میں واضح ہے کہ میچ سے انکار کی صورت میں واحد حل واک اوور ہے، اور اس کا تمام فائدہ پاکستان کو ہوگا۔ایشیائی کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت ایشیا کپ کا میزبان ملک نہیں اور نہ ہی ان کے پاس ایسا کوئی اختیار ہے کہ وہ منتخب میچز کا بائیکاٹ کریں۔ ٹورنامنٹ کے قوانین کے مطابق، کھیلنے سے انکار صرف خود نقصان کا سبب بنے گا۔







Discussion about this post