علی ظفر نے آٹھ سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد بالآخر انصاف حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان کے محبوب گلوکار اور اداکار علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں مکمل کامیابی حاصل کرتے ہوئےخدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔ اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں علی ظفر نے لکھا کہ ایک صبر آزما اور طویل قانونی مرحلے کے بعد انہیں انصاف مل گیا ہے۔ عدالت نے 31 مارچ کو فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
— Ali Zafar (@AliZafarsays) April 2, 2026
علی ظفر نے واضح کیا کہ وہ اس کامیابی کو کسی جشن یا فتح کے طور پر نہیں منا رہے۔ ان کے دل میں صرف عاجزی اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل خوشی انصاف کے ملنے کی ہے، نہ کہ کسی کے خلاف جیت کا احساس۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وہ کسی کے خلاف کوئی منفی جذبات نہیں رکھتے اور یہ معاملہ اب ان کے لیے اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے سب کے لیے دعا کی کہ سب وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔

یہ مقدمہ 2018 میں شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ علی ظفر نے ان الزامات کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کیا۔ آٹھ سال تک چلنے والا یہ کیس پاکستان کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے ’می ٹو‘ مقدمات میں سے ایک بن گیا تھا۔ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا کہ میشا شفیع متعدد پیشیوں پر حاضر نہیں ہوئیں اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں کوئی مضبوط شواہد پیش کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے تمام گواہان عدالت میں پیش کیے۔ علی ظفر کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان تمام فنکاروں کے لیے ایک اہم مثال ہے جو غلط الزامات کا شکار ہوتے ہیں اور صبر کے ساتھ سچ کی لڑائی لڑتے ہیں۔








Discussion about this post