انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) کراچی میں لانڈھی میں ٹرک/ڈمپر کو نذر آتش کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی کارروائی کے دوران مدعی مقدمہ دانش سمیت تین گواہوں نے عدالت میں آفاق احمد کی شناخت سے انکار کر دیا۔ گواہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ تو آفاق احمد کے خلاف کوئی مقدمہ درج کرایا اور نہ ہی ان کے خلاف پولیس کو کوئی بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان سے سادہ کاغذ پر دستخط لیے تھے۔ گواہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ آیا آفاق احمد کی ایما پر ٹرک یا ڈمپر کو آگ لگائی گئی تھی۔
عدالتی کارروائی
سماعت کے دوران مدعی مقدمہ دانش، دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ گواہوں کے بیانات قلم بند کر لیے گئے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہوں کو طلب کرنے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 25 اگست تک ملتوی کر دی۔
استغاثہ کا مؤقف
استغاثہ کے مطابق آفاق احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک آڈیو میسج کے ذریعے کارکنوں کو اکسانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی ایما پر لانڈھی میں ایک کنٹینر کو بھی نذر آتش کیا گیا، جس سے چینی کی بوریاں چوری ہوئیں۔ ملزمان نے اپنے بیانات میں تسلیم کیا تھا کہ کنٹینر جلانے کا حکم آفاق احمد نے دیا تھا۔ آفاق احمد اور دیگر ملزمان کے خلاف لانڈھی تھانے میں مقدمہ درج ہے اور عدالت میں کارروائی جاری ہے۔







Discussion about this post