بعض اوقات کسی واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے قاتل کو تلاش کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ تفتیش کرنے والوں نے حقیقت تلاش کرنے کی کتنی کوشش کی۔ اور اگر تفتیش کے ابتدائی دس روز ہی شواہد جمع کرنے، فرانزک جانچ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور طبی معائنے کے معاملے میں ایسی کوتاہیاں سامنے آجائیں کہ پورا مقدمہ سوالیہ نشان بن جائے تو پھر معاملہ صرف ایک موت کا نہیں رہتا، انصاف کے پورے نظام کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے میر رضا علی کیس کے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد یہی سوال ایک بار پھر سامنے کھڑا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے قرار دیا ہے کہ میر رضا علی کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل تھی۔ رپورٹ کے مطابق، حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پیچھے سے لگنے والی گولی کا زخم بتایا گیا، جبکہ لاش پر تیزاب سے ہونے والے زخموں اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی کے شواہد بھی سامنے آئے۔
گویا جس موت کو ابتدا میں خودکشی قرار دیا جارہا تھا، اس کے بارے میں دستیاب طبی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کررہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب طبی شواہد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے تو ابتدائی تفتیش میں انہیں وہ اہمیت کیوں نہیں دی گئی جس کا وہ تقاضا کرتے تھے؟
رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر ابتدائی دس روز کے دوران شواہد جمع کرنے، فرانزک جانچ، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیشن نے تفتیش کی کیفیت کو ’’بغیر ملاح کی کشتی‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ اس تفتیش کے بارے میں ایک سخت تبصرہ ہے جس کا بنیادی مقصد واقعے کی حقیقت تک پہنچنا تھا۔ کشتی اگر بغیر ملاح کے ہو تو منزل تک پہنچنے کی ضمانت کون دے سکتا ہے؟ لیکن جب بات قتل جیسے سنگین مقدمے کی ہو تو سوال صرف منزل تک نہ پہنچنے کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ راستے میں کون سے شواہد ضائع ہوئے، کون سی کڑیاں جوڑی نہیں گئیں اور کن سوالات کے جواب تلاش کرنے میں تاخیر ہوئی؟
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ پر شواہد جمع کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے کے تقاضے پوری طرح پورے نہیں کیے گئے۔ درجنوں پولیس اہلکار اس عمل میں شامل رہے، مگر شواہد جمع کرنے کے حوالے سے مناسب دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ جائے وقوعہ کی مکمل فوٹوگرافی اور نقشہ بندی کے معاملے میں بھی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
اب ذرا سوچیے کہ کسی قتل کے مقدمے میں شواہد ہی مناسب طریقے سے محفوظ نہ کیے جائیں تو بعد میں عدالت کے سامنے حقیقت کس بنیاد پر رکھی جائے گی؟ فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد کی اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ یہی وہ کڑیاں ہوتی ہیں جو مشتبہ حالات میں کسی واقعے کی حقیقت سامنے لانے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر انہی کڑیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے تو تفتیش کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
کمیشن نے شواہد کے حصول اور ان کی دستاویز بندی میں سامنے آنے والی خامیوں کی مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ابتدائی تفتیش میں شواہد چھپانے یا ممکنہ کور اَپ کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس خدشے کی موجودگی اور کسی باقاعدہ کور اَپ کا ثابت ہوجانا دو الگ باتیں ہیں۔ اب ضروری ہے کہ اس پہلو کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ داری کا تعین ثبوتوں کی بنیاد پر کیا جائے۔
اس مقدمے میں سی سی ٹی وی فوٹیج کا معاملہ بھی کم اہم نہیں۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ تک پہنچنے کے کم از کم نو ممکنہ راستے تھے، لیکن پولیس نے صرف ایک راستے کی فوٹیج حاصل کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر نو راستے ممکنہ طور پر واقعے کی نقل و حرکت سمجھنے میں مدد دے سکتے تھے تو صرف ایک راستے تک تفتیش محدود کیوں رہی؟ باقی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ اور اگر نہیں ہوئی تو اس کی وجہ کیا تھی؟
یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب محض وضاحتوں سے نہیں، بلکہ ریکارڈ اور شواہد سے سامنے آنے چاہئیں۔ کمیشن نے بھی ویڈیو ریکارڈ، فرانزک مواد اور دیگر شواہد کا باہمی موازنہ کرنے پر زور دیا ہے تاکہ واقعے کی مکمل صورت حال واضح ہوسکے۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں میر رضا علی کی مالی مشکلات، قرضوں اور کاروباری لین دین کو خودکشی کی حتمی وجہ قرار دینے کے مؤقف پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق مالی پریشانیوں سے متعلق دستیاب شواہد خودکشی کے حتمی نتیجے کے لیے کافی نہیں تھے۔ مالی لین دین، قرضوں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: مالی مشکلات کسی شخص کی زندگی میں پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن محض قرضوں یا کاروباری معاملات کی موجودگی کسی موت کو خودکشی قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں واٹس ایپ پیغامات، وائس نوٹس اور ایپل واچ کے نوٹس کا ذکر بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ان ڈیجیٹل شواہد کو سامنے لانا اور ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ اندازوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس میں مبینہ بے قاعدگیوں کا معاملہ بھی رپورٹ میں زیر بحث آیا ہے۔ کمیشن نے میر رضا علی کی لاش نکالنے کے لیے قائم میڈیکل بورڈ میں راتوں رات تبدیلی کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے اور اس اقدام کو انتہائی بے قاعدہ قرار دیا۔ ایسے معاملات میں شفافیت محض انتظامی ضرورت نہیں ہوتی؛ اس کا تعلق اس اعتماد سے بھی ہوتا ہے جس کی بنیاد پر عوام کسی تحقیقاتی عمل کو قبول کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس رپورٹ کے بعد آگے کیا ہوگا؟
جوڈیشل کمیشن نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی دس روز کی تفتیش میں غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے کردار کی ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
یہ سفارشات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل امتحان ان پر عمل درآمد کا ہے۔ رپورٹ جاری ہوجانا ایک مرحلہ ہے، سفارشات پر عمل ہونا دوسرا، اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنانا تیسرا مرحلہ ہے۔ اگر کسی تحقیقاتی رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی ہو اور پھر وہ خامیاں بھی فائلوں کا حصہ بن کر رہ جائیں تو انصاف کا سفر وہیں رک جاتا ہے جہاں سے اسے آگے بڑھنا چاہیے تھا۔
میر رضا علی کی موت کے معاملے میں اب ضروری ہے کہ ہر دستیاب طبی، فرانزک، ڈیجیٹل اور ویڈیو ثبوت کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو۔ جن اہلکاروں کے کردار پر سوال اٹھے ہیں، ان کے بارے میں بھی ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ کسی کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا انصاف نہیں، لیکن کسی ممکنہ غفلت یا بے قاعدگی کو نظر انداز کردینا بھی انصاف نہیں ہوسکتا۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ میر رضا علی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ایسی خامیاں کیوں سامنے آئیں، جن کی نشاندہی کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کرنا پڑا؟ کیا اب ان خامیوں کی ذمہ داری کا تعین ہوگا؟ کیا ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کی مکمل جانچ ہوگی؟ اور کیا اس مقدمے میں انصاف محض ایک رپورٹ کے صفحات تک محدود نہیں رہے گا؟
کیونکہ قتل کے کسی مقدمے میں سچ تک پہنچنا صرف مقتول کے لیے انصاف کا تقاضا نہیں ہوتا، یہ اس نظام کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے جو شہریوں کو یقین دلاتا ہے کہ قانون کے سامنے ہر سوال کا جواب تلاش کیا جائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد تفتیش حقیقت تک پہنچتی ہے یا یہ معاملہ بھی سفارشات، وضاحتوں اور فائلوں کے درمیان الجھ کر رہ جاتا ہے۔






Discussion about this post