ایران نے اسرائیل کی جانب سے مبینہ جاسوسی اور اندرونی انتشار پھیلانے کے الزام میں ایک اور شخص کو پھانسی دے کر سخت پیغام دیا ہے۔ منگل کے روز تہران میں امیر علی میر جعفری کو پھانسی دی گئی، جن پر اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کی قیادت اور جنوری کے مظاہروں کے دوران تہران کی قلعہک مسجد کو نذرِ آتش کرنے کا سنگین الزام تھا۔ ایرانی عدلیہ کی سرکاری ویب سائٹ میزان کے مطابق، امیر علی میر جعفری پر نہ صرف مسجد میں آگ لگانے بلکہ سیکیورٹی مخالف سرگرمیوں کی قیادت کا بھی الزام ثابت ہوا۔ ایرانی سپریم کورٹ نے سزائے موت کی توثیق کر دی تھی اور منگل کو اس پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ یہ پھانسی اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایران کی جانب سے جاری سخت کارروائی کا تسلسل ہے۔ ۔ ایران کا یہ اقدام واضح طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنے قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنے اندرونی استحکام کی حفاظت کے لیے پوری سختی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔








Discussion about this post