امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کر دیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو پہلے سے بھی زیادہ شدید اور تباہ کن بمباری کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی جنگی جہاز، فوجی دستے اور جدید ہتھیار ایران کے آس پاس ہی موجود رہیں گے۔ ضرورت پڑنے پر دشمن کے خلاف مہلک اور فیصلہ کن کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی معاہدہ اور اس پر مکمل عملدرآمد ہونے تک صورتحال ویسی ہی رہے گی۔ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جو بمباری ہوگی، وہ تاریخ کی بدترین ہوگی۔ ٹرمپ نے دوبارہ زور دیا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہییں اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا ہوگا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کر لیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت اس ہفتے شروع ہو رہی ہے۔ وینس نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ امریکا پابندیوں میں نرمی پر بات کرنے کو تیار ہے، لیکن جنگ بندی کے بعد اگلا قدم ایرانیوں کو اٹھانا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے پاس دوبارہ جنگ کی طرف جانے کے تمام آپشنز موجود ہیں۔نائب صدر نے ایرانی قیادت سے سنجیدگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذاکرات کی میز پر مخلصانہ اور سنجیدہ انداز میں آنا ہوگا۔ انہوں نے لبنان والے معاملے پر بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی یہ غلط فہمی تھی کہ لبنان سیزفائرمعاہدے کا حصہ ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ اگر ایران لبنان کی وجہ سے پورا معاہدہ توڑنا چاہتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب ہوگا۔ یہ وہ نازک مرحلہ ہے جہاں امن اور تباہی کے درمیان فاصلہ صرف ایک درست فیصلے کا ہے۔







Discussion about this post