امریکا نے ایک اہم اور حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے دو اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کو عارضی طور پر اپنی ٹارگٹ لسٹ سے ہٹا دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مجلس شوریٰ اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا نام چار سے پانچ دنوں کے لیے ٹارگٹ لسٹ سے ہٹایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل دونوں کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اقدام اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔

اس عارضی اقدام کا مقصد تناؤ کو کم کرنا اور سفارتی بات چیت کے لیے ایک مثبت ماحول پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ، پاکستان اور مصر جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تینوں ممالک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ پیش رفت خطے میں جاری تناؤ کے باوجود سفارتکاری کی ایک نئی امید پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، یہ صرف عارضی اقدام ہے، جس کا حتمی نتیجہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔








Discussion about this post