خلیجی خطے میں ایک خطرناک اور طاقتور طوفان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس نے پوری علاقائی فضا میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین موسمیات نے سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں شدید موسمی حالات کی واضح پیش گوئی کی ہے۔ آنے والے دنوں میں تیز بارشوں، شدید آندھیوں اور گرد آلود ہواؤں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہوا کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ ہفتے کے اختتام تک کئی علاقے اس طوفان کی زد میں آ سکتے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ حدِ نگاہ شدید متاثر ہوگی اور ساحلی علاقوں میں سمندری لہریں خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہیں۔ بعض مقامات پر لہروں کی اونچائی 2.5 میٹر سے بھی زیادہ ہو جانے کا اندیشہ ہے، جس سے ساحلی پٹی پر رہنے والوں کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں تو صورتحال مزید تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔ طوفانی بارشوں کے پیش نظر شہریوں میں گہری بے چینی پھیل گئی ہے۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں کے اندر داخل ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ لوگ احتیاطی تدابیر اپنانے میں مصروف ہیں۔ ریت کی بوریاں خریدی جا رہی ہیں اور پلاسٹک شیٹس سے گھروں کو مضبوطی سے محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس حوالے سے اماراتی محکمہ اوقاف نے بھی اہم اپیل جاری کی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ شدید بارش کے دوران نماز گھروں میں ہی ادا کریں تاکہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے بچا جا سکے۔ مساجد کے آئمہ کرام کو ہدایت کی گئی ہے کہ اذان کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر بار بار اعلان کیا جائے تاکہ لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ مزید ہدایات میں کہا گیا ہے کہ جہاں مساجد میں نماز ادا کی جا رہی ہو، وہاں شدید موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ جمع کر کے پڑھی جائیں۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی ادا کی جائیں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ طوفان نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور واضح ثبوت ہے بلکہ خلیجی خطے کی عوام کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ثابت ہو رہا ہے۔ حکام اور شہری دونوں ہی اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری میں مصروف ہیں۔








Discussion about this post