وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کی تصدیق کر دی ہے، جو عالمی سفارتکاری کے منظر نامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق، جب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ سے سٹیون وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ممکنہ اسلام آباد دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس سفارتی معاملات ہیں اور امریکا ان پر میڈیا کے ذریعے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ بدلتے حالات میں کسی بھی میٹنگ یا رابطے کی قیاس آرائی کو حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس کی طرف سے باضابطہ اعلان نہ ہو جائے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اتوار کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ سے براہ راست بات کی، جس میں پاکستان خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ایران کو پندرہ نکات پر مشتمل پیغام پہنچایا ہے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے گفتگو میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگر دونوں فریقین رضامند ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اپنے مضبوط فوجی رہنما کی تہران تعلقات اور صدر ٹرمپ کے ساتھ گرمجوشی بھرے رابطوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیک چینل ذرائع کے ذریعے دونوں طرف رابطے قائم کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے اس نازک مرحلے میں پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف خطے میں امن کی امید جگا رہی ہیں بلکہ اسلام آباد کو ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر بھی نمایاں کر رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ثالثی کی کوششیں کس طرف لے جاتی ہیں، کیونکہ دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ان پیچیدہ رابطوں پر مرکوز ہیں۔







Discussion about this post