نیویارک ٹائمز کی ایک اہم رپورٹ نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اس کے مطابق امریکا نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع 15 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں ایران کے جوہری اور عسکری پروگرام پر نہایت سخت شرائط عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنے تین بڑے یورینیم افزودگی مراکز کو مستقل طور پر غیر فعال کر دے یا مکمل طور پر ختم کر دے۔ ساتھ ہی ایران سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے حمایت یافتہ عسکری گروہوں اور مسلح تنظیموں کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرنا فوری طور پر بند کر دے۔ منصوبے کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز میں ایک "آزاد بحری زون” قائم کرنے کی تجویز ہے، تاکہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی جہاز رانی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

امریکا نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شدید حد تک محدود کرے، اپنی فوجی تنصیبات اور میزائل لانچرز پر بین الاقوامی نگرانی قبول کرے، اور مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی واضح، تحریری اور ناقابلِ واپسی یقین دہانی دے۔ یہ منصوبہ اس نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے ایک بار پھر اپنا مثبت اور تعمیری کردار پیش کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کی رضامندی سے مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہوگا اگر دونوں ممالک امن کی راہ پر چلنے کے لیے پاکستان کی میزبانی قبول کریں۔ یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ سفارت کاری کی راہ اب بھی کھلی ہے، لیکن کامیابی کا دارومدار ایران کے ان سخت مطالبات پر عملدرآمد کی رضامندی پر ہوگا۔ خطے کا امن نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ 15 نکاتی منصوبہ کتنا موثر ثابت ہوتا ہے، یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا۔







Discussion about this post