محکمہ موسمیات نے ملک بھر کے شہریوں کو ایک طاقتور اور پرجوش پیغام دیا ہے۔ 24 سے 30 مارچ تک پورے پاکستان میں بارشوں، تیز آندھیوں اور گرج چمک کے ساتھ شدید طوفانی موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں خوبصورت مگر خطرناک ژالہ باری اور اچانک سیلاب کا بھی شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک مضبوط مغربی سسٹم 24 مارچ کی شام بلوچستان میں داخل ہونے والا ہے۔ یہ سسٹم 27 مارچ کے بعد مزید شدت اختیار کر کے 31 مارچ تک ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز رہے گا۔ بلوچستان کے گوادر، تربت، پنجگور، کوئٹہ اور خضدار سمیت متعدد علاقوں میں تیز ہواؤں، دھڑکتے بادل اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ متوقع ہے۔ کئی مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے جو منظر کو دلچسپ بنائے گی مگر احتیاط بھی طلب کرے گی۔ خیبر پختونخوا کے خوبصورت پہاڑی علاقوں چترال، سوات، دیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بارش کے ہمراہ برفباری کا پرلطف مگر انتباہی امکان ہے۔ پنجاب کے لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں بھی زور دار بارش اور ژالہ باری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ سمیت مختلف شہروں میں 25، 26 کے علاوہ 28 اور 29 مارچ کو تازہ بارشوں کا دور متوقع ہے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑوں پر بارش، برفباری اور بعض جگہوں پر ژالہ باری کا خوبصورت مگر خطرناک امتزاج ممکن ہے۔
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین خطرہ
محکمہ موسمیات نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ بلوچستان میں 25 سے 28 مارچ اور خیبر پختونخوا کے ندی نالوں میں 28 سے 30 مارچ کے دوران اچانک فلیش فلڈ کا شدید خطرہ ہے۔ بالائی پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
شہریوں اور کسانوں کے لیے اہم ہدایات
محکمہ موسمیات نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قیمتی فصلوں کی حفاظت کے لیے فوری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ہر لمحہ محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔







Discussion about this post