کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا میں پیش آنے والے المناک حادثے پر ریسکیو اور سرچ آپریشن پوری احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق کارروائی کو تکنیکی پہلوؤں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کی تعداد 28 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملبے سے نکالے گئے 17 افراد کی شناخت کا عمل ابھی باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے کوشش کر رہے ہیں کہ لاشوں کی شناخت جلد از جلد ممکن بنائی جا سکے تاکہ لواحقین کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے۔ جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا کہ جب تک سرچ آپریشن مکمل نہیں ہو جاتا اور ایک بھی لاپتہ شخص کی موجودگی کا خدشہ برقرار ہے، اس وقت تک پوری عمارت کو گرانے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جیسے ہی آپریشن مکمل ہوگا، اس کے بعد عمارت کو مکمل طور پر منہدم کیا جائے گا۔ ڈی سی ساؤتھ کے مطابق اس وقت 85 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے، جبکہ 39 لاپتہ افراد کی لوکیشن گل پلازا کی عمارت کے اندر سے موصول ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمارت کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں تاحال رسائی ممکن نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حفاظتی اقدامات کے تحت گل پلازا کے ساتھ واقع ریمپا پلازا کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے ریمپا پلازا کے نقشے اور دیگر ضروری تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ گل پلازا کے منہدم حصوں سے ملبہ ہٹانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن میں مشینری اور دستی دونوں طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم گرے ہوئے حصوں کو اٹھانے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق عمارت کے اندر اب بھی دھواں اور شدید گرمائش موجود ہے، جس کے باعث کولنگ کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے۔آخر میں ڈی سی ساؤتھ نے کہا کہ جہاں تک رسائی ممکن ہو چکی ہے وہاں مکمل سرچ کیا جا چکا ہے، اور کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی کیونکہ معاملہ قیمتی انسانی جانوں کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے پہلے دن ہی متاثرہ افراد اور لواحقین کی رہنمائی کے لیے انفارمیشن ڈیسک قائم کر دیا گیا تھا۔






Discussion about this post