وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کہا کہ بحرین آ کر ایسا محسوس ہوا جیسے اپنے گھر آئے ہوں۔ انہوں نے بحرین کے فرمانروا اور ولی عہد کی محبت و عزت کو ناقابلِ فراموش قرار دیا اور پاک-بحرین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو اب معاشی تعاون میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے بحرینی کاروباری برادری سے خطاب میں کہا کہ مذاکرات بہترین ماحول میں ہوئے، جس سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ پاکستان کی نوجوان ترین آبادی، جس میں 60 فیصد افراد 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں، حکومت کی ترجیح ہے، اور نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا اولین مقصد ہے۔ انہوں نے بحرینی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھولنے پر بھی زور دیا۔وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زائد پاکستانی ملک کا فخر ہیں، جنہوں نے 484 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ کمیونٹی دونوں ممالک کی بہترین سفیر ہے۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بحرین کے وژن اور ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کا خواہاں ہے اور ملک کے پاس وسائل، افرادی قوت اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بحرینی سرمایہ کار پاکستان میں زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں اور مشترکہ منصوبوں میں حصہ لیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حتمی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔







Discussion about this post