جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کوچ شکری کونراڈ کے ایک بیان نے بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگادی۔ ہوا کچھ یوں کہ گوہاٹی میں دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران کوچ نے کہا کہ وہ بھارت کو “گروول” (ذلت آمیز طریقے سے گھٹنے ٹیکنا) کرانا چاہتے تھے۔انہوں نے یہ بات پوسٹ میچ پریس کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہی کہ جنوبی افریقہ نے بڑی برتری ہونے کے باوجود تقریباً 80 اوورز تک بیٹنگ کیوں جاری رکھی۔ ہیڈ کوچ نے جواب دیا کہ ہم چاہتے تھے کہ بھارت کے کھلاڑی میدان میں زیادہ سے زیادہ وقت اپنے پاؤں پر کھڑے رہیں۔ ہم انہیں واقعی گروول کرانا چاہتے تھے ۔ ہمارا ہدف تھا کہ انہیں مکمل طور پر میچ سے باہر کر دیں اور پھر آخری دن اور شام کے ایک گھنٹے میں ان سے کہیں کہ آؤ، ہم سے بچ کر دکھاؤ۔واضح رہے کہ ” گروول ” کا لفظ تاریخی طور پر انتہائی توہین آمیز کے زمرے میں آتا ہے جو غلامی کی یاد دلاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران کوچ نے برملا یہ کہا کہ وہ یہ جملہ ” ادھار ” لے رہے ہیں۔ جو انہوں نے 1976 میں انگلینڈ کے آنجہانی کپتان ٹونی گریگ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے پہلے یہی لفظ استعمال کیا تھا۔ٹونی گریگ جو خود سفید فام جنوبی افریقی کھلاڑی تھے انہوں نے کہا تھا کہ وہ کلائیو لائیڈ کی ویسٹ انڈیز ٹیم کو “گروول” کرائیں گے۔ اس بیان پر اس وقت بھی شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔
بھارتیوں کا منافقت بھرا انداز
المیہ ہے کہ بھارتی سابق کرکٹر اور تجزیہ کار ، جنوبی افریقی کوچ کے اس بیان پر زہر اگل رہے ہیں اور اسے تذلیل اور نسلی تعصب قرار دے رہے ہیں لیکن یہ چند دن پہلے یہ تمام شخصیات اس وقت خاموش تھیں جب بھارتی بالر بمرا نے جنوبی افریقی کپتان کو ” بونا ” کہا جب کہ وکٹ کیپر وشپنت نے گالی بھی دی اور یہ تمام تر غیر اخلاقی گفتگو اسٹمپ مائیک سے دنیا نے سنی۔

اسی بنا پر ہر ایک کا یہی کہنا ہے کہ بھارتی تجزیہ کاروں نے اپنے کھلاڑیوں کے نسلی تعصب اور جسمانی ساخت کو لے کر ادا کیے جانے والے ان جملوں کی نہ مزمت کی اور ناہی ان کا تذکرہ کیا لیکن اب جنوبی افریقی ہیڈ کوچ کی سچائی پر مبنی بات کو دل پر لگا کر بیٹھ گئے اور یہ شور شرابا کررہے ہیں کہ مہمان ہیڈ کوچ نے ان کی تذلیل کی ہے۔یاد رہے کہ جنوبی افریقی ٹیم نے بھارت کو 2 ٹیسٹ کی سیریز میں وائٹ واش کیا اور 25 سال بعد بھارت میں ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔







Discussion about this post