خیبر پختونخوا کی سیاست آج ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی جہاں اقتدار کا تاج ایک نئے سر پر سج گیا، اور ایوانِ صوبائی سیاست میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہوئی۔ پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری تھا، جب اپوزیشن اراکین احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے اور ایوان میں گہما گہمی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اسی دوران اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ایک تاریخی رولنگ دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور کرنے کا اعلان کیا۔ رولنگ میں کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور نے آئین کے آرٹیکل 130(8) کے تحت اپنا استعفیٰ 8 اکتوبر کو پیش کیا تھا، جسے بعدازاں 11 اکتوبر کو تحریری طور پر بھی تصدیق کیا گیا۔ اسپیکر نے کہا، “یہ استعفیٰ ان کی وفاداری اور آئینی عمل پر یقین کا ثبوت ہے۔ وزیراعلیٰ کے عہدے کی منظوری کسی خواہش نہیں بلکہ آئین کے تابع ہوتی ہے۔” اس اعلان کے ساتھ ہی اسمبلی میں نیا سیاسی منظرنامہ ابھرا۔ایوان میں گھنٹیاں بجیں، اراکین اپنی اپنی لابیوں میں جمع ہوئے، اور ہر سمت سیاسی جوش و خروش کی فضا چھا گئی۔

انتخابی معرکے میں چار امیدوار میدان میں تھے:
-
پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی
-
جے یو آئی (ف) کے مولانا لطف الرحمان
-
ن لیگ کے سردار شاہجہان یوسف
-
پیپلز پارٹی کے ارباب زرک
کل 145 اراکین پر مشتمل ایوان میں 73 ووٹ حاصل کرنا وزارتِ اعلیٰ کے لیے لازم تھا۔ حکومتی بنچوں پر بیٹھے 93 ارکان کی عددی برتری نے سہیل آفریدی کی کامیابی کو تقریباً یقینی بنا دیا۔ اجلاس کے دوران ماحول خاصا پرجوش رہا۔ اسپیکر کے اعلان سے قبل علی امین گنڈاپور نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تصویر اٹھا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔ اسمبلی ہال کے دروازے بند ہونے پر باہر موجود پی ٹی آئی کارکنوں نے زبردست احتجاج کیا، دروازے پیٹے اور بالآخر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جیسے ہی نعرے گونجے—“وزیراعلیٰ سہیل آفریدی زندہ باد!”—ایوان ایک سیاسی جشن کا منظر پیش کرنے لگا۔اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا،
“آج اس ایوان نے آئین، قانون اور جمہوری تسلسل کی پاسداری کرتے ہوئے ایک نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا ہے۔ یہ فیصلہ کسی خواہش یا دباؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح کی عکاسی ہے۔”
یوں خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نیا باب کھل گیاجہاں محمد سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ عہد سنبھال کر صوبے کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔







Discussion about this post