غزہ کی سرزمین پر برسوں سے جاری خونریزی کے درمیان بالآخر ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جسے امن کی سمت پہلا مضبوط قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ پیر کے روز فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے کے ابتدائی مرحلے کے تحت 7 اسرائیلی یرغمالیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اس تاریخی تبادلے کے بدلے میں اسرائیل اپنی جیلوں سے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا , ایک ایسا منظر جو برسوں کی تلخیوں کے بعد امید کی نئی کرن بن کر ابھرا ہے۔یہ جنگ بندی، جو دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی طرف سب سے بڑا قدم سمجھی جا رہی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے۔ اسرائیل میں عوام اپنے جھنڈے لہراتے ہوئے غزہ کے قریب فوجی کیمپ “رئیم” کے باہر جمع تھے، جہاں یرغمالیوں کی آمد کا انتظار تھا۔ رہائی کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتالوں منتقل کیا جانا تھا تاکہ طبی معائنہ کیا جا سکے۔ اسی دوران تل ابیب کے “یرغمالی چوک” میں سینکڑوں اسرائیلی شہری جمع ہوئے ، ان کے ہاتھوں میں قومی پرچم اور یرغمالیوں کی تصویریں تھیں۔ فضا میں امید، تشکر اور جذبات کی لہر دوڑ گئی۔ رائٹرز کی فوٹیج میں جنوبی غزہ کے نصر اسپتال کے باہر ایک درجن کے قریب نقاب پوش، مسلح افراد دیکھے گئے، جو غالباً حماس کے عسکری ونگ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سے یرغمالیوں کی حوالگی اور فلسطینی قیدیوں کی ممکنہ آمد متوقع تھی۔ ایمبولینسوں کے قریب کرسیوں کی قطاریں اور ایک مختصر استقبالیہ تقریب بھی دکھائی دی ، گویا جنگ زدہ علاقے میں بھی انسانیت کی رمق زندہ تھی۔ دو برس سے جاری اس تباہ کن جنگ نے نہ صرف ایران، یمن اور لبنان جیسے ممالک کو اس میں الجھایا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اس جنگ نے اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کی راہ پر بھی ڈال دیا۔اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن سے اسرائیل روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں اعلان کیا:
“جنگ ختم ہو گئی ہے۔”
جب ان سے خطے کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے پُرامید لہجے میں کہا:
“میرا خیال ہے کہ اب حالات معمول پر آ جائیں گے۔”
ٹرمپ پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے، جہاں ان کے لیے شاندار خیرمقدمی تقریب کی تیاری مکمل ہے۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوک نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ کو رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا جائے گا — ایک ایسا لمحہ جو نہ صرف سیاسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ جنگ کے بادلوں کے بعد ابھرتے امن کے سورج کی علامت بھی۔







Discussion about this post