تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان پر میڈیا ٹاک کے دوران انڈہ پھینکنے کا واقعہ پیش آیا جس کی مختلف سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں نے مذمت کی ہے۔ واقعہ جمعے کی سہ پہر اڈیالہ جیل جانے والی سڑک پر داہگل ناکے کے قریب اس وقت پیش آیا جب علیمہ خان پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈہ پھینکنے کے بعد موقع پر موجود کارکنوں نے ایک گاڑی کو گھیر لیا، تاہم پولیس اہلکار خواتین کو حفاظت کے ساتھ وہاں سے لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان پر انڈے پھینک دیئے گئے
سیاسی اختلاف کی بھی کوئی حد ہوتی ہے pic.twitter.com/icXkUZD22A— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) September 5, 2025
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق انڈہ پھینکنے والی خواتین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ خواتین، خیبر پختونخوا سے آنے والے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اور آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کے احتجاجی وفد کے ساتھ موجود تھیں۔ پولیس کے بقول، علیمہ خان کی جانب سے ان کے سوالات کا جواب نہ ملنے پر انڈہ پھینکنے کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث خواتین کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب، تحریک انصاف نے اپنے مرکزی شعبہ اطلاعات سے جاری بیان میں کہا ہے کہ علیمہ خان پر حملہ "منصوبہ بندی کے تحت بھیجی گئی شرپسند خواتین” نے کیا اور پھر پولیس نے انہیں گاڑی سمیت "منصوبے کے مطابق فرار کرایا۔” پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ گاڑی کا نمبر ان کے پاس موجود ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ علیمہ خان پر حملے کی فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔
داہگل کے مقام پر پریس کانفرنس کے دوران علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے کا واقعہ، انڈہ پھینکنے والی خواتین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، کے پی سے آل گورنمنٹ ایمپلائزگرینڈ الائنس اور آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن کے افراد اپنے مطالبات کے سلسلہ میں احتجاج کرنے آئے تھے، خواتین کے سوالات پر
— Rawalpindi Police (@RwpPolice) September 5, 2025







Discussion about this post