بھارت کی جنگی حکمتِ عملی کے ناکام ہوجانے اور پاکستان کے ہاتھوں رسوا کُن شکست کے بعد اب اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ’’تھیٹرائزیشن‘‘ کے متنازع منصوبے نے بھارتی فوج کی تینوں شاخوں بری، فضائی اور بحری کو ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کیا ہے اور طاقت کی کشمکش نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے مودی سرکار کے اس منصوبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جلد بازی میں ’’تھیٹرائزیشن‘‘ نافذ کرنا بھارت کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اس وقت جب ہر چیز غیر یقینی ہے، ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کرنا دانشمندی نہیں، بلکہ تباہی کو دعوت دینا ہے۔” ایئر چیف کا مؤقف ہے کہ بھارت کو کسی دوسرے ملک کے نقشِ قدم پر چلنے کے بجائے اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ ’’اگر ہم اندھی تقلید کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے،‘‘

انہوں نے واضح کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ دہلی میں مشترکہ منصوبہ بندی اور ربط و ہم آہنگی کے لیے ایک مضبوط مرکز قائم کیا جانا چاہیے۔ امر پریت سنگھ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو اس منصوبے کے نفاذ کے لیے کسی دباؤ کے تحت نہیں آنا چاہیے، بلکہ ضرورت ہے کہ اعلیٰ سطح پر پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور حکمتِ عملی کی بنیاد رکھی جائے۔ دوسری جانب، مودی سرکار کی سیاسی مداخلت نے پہلے ہی بھارتی افواج کو غیر پیشہ ورانہ رویوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ’’تھیٹرائزیشن‘‘ کے متنازع منصوبے نے نہ صرف فوجی قیادت میں اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے بلکہ بی جے پی حکومت کے عزائم پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔








Discussion about this post