سانگھڑ میں جاں بحق ہونے والے صحافی خاور حسین کے اہل خانہ پیر کی صبح امریکا سے کراچی پہنچ گئے۔ خاور حسین کے بھائی، والد اور والدہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد حیدرآباد کے راستے سانگھڑ روانہ ہوئے۔ اس موقع پر خاور حسین کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا نہایت دلیر اور نڈر انسان تھا، وہ کسی صورت خود اپنے آپ کو گولی نہیں مار سکتا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’یہ خودکشی نہیں، قتل ہے‘‘۔ خاور حسین کے والد نے مزید کہا کہ ان کا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا یا تنازعہ نہیں تھا۔

یاد رہے کہ خاور حسین کی لاش سانگھڑ کے حیدرآباد روڈ پر ایک نجی ہوٹل کے باہر ان کی اپنی گاڑی سے ملی تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا۔ خاور حسین کراچی میں مقیم تھے اور مختلف نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ رہ چکے تھے۔ ان کی اچانک موت نے صحافتی حلقوں اور سول سوسائٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی قائم
دوسری جانب آئی جی سندھ نے خاور حسین کی ہلاکت کے حوالے سے شکوک و شبہات دور کرنے اور اصل حقائق سامنے لانے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ آزاد خان کریں گے، جب کہ ارکان میں ڈی آئی جی ویسٹ زون کراچی عرفان بلوچ اور ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ شامل ہیں۔ یہ کمیٹی خاور حسین کی موت کے پسِ پردہ وجوہات—خواہ وہ خودکشی ہو یا قتل کی جامع تحقیقات کرے گی۔







Discussion about this post