گلگت بلتستان اور ملحقہ علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بابوسر ٹاپ اور قراقرم ہائی وے پر متعدد سیاح اور مسافر پھنس گئے، جنہیں ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج، جی بی اسکاؤٹس اور دیگر اداروں نے بھرپور کارروائی کا آغاز کیا۔ چلاس کے قریب سیاحتی مقام بابوسر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں کئی افراد بہہ گئے تھے، جس کے بعد ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع ہوا۔ پاک فوج کی ٹیمیں متاثرین کو خوراک، پینے کا پانی، اور طبی امداد فراہم کر رہی ہیں، جب کہ سڑکوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری اور افرادی قوت سرگرم ہے۔
ریسکیو ٹیموں کی بھرپور کارروائیاں:
-
ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تیار کھانے کے 150 پیکٹس متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیے گئے
-
دیوسائی اور اسکردو روڈ کی بحالی کا کام تیزی سے جاری
-
سدپارہ ماؤنٹینئرنگ اسکول تک لینڈسلائیڈ کلیئر، دیوسائی سے سدپارہ گاؤں تک راستہ بحال
-
قراقرم ہائی وے کے متعدد مقامات پر سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا
این ایچ اے کا متحرک کردار:
وفاقی وزیر مواصلات کی ہدایت پر این ایچ اے کی ٹیمیں ضلع دیامر اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھرپور سرگرم ہیں۔ قراقرم ہائی وے کو چلاس زیرو پوائنٹ، گورنر فارم، پسو اور جھلکھڈ سمیت کئی مقامات پر جزوی طور پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔ تتہ پانی کے مقام پر بھی جلد بحالی متوقع ہے۔ این ایچ اے کے ترجمان کے مطابق ٹیمیں رات بھر آپریشن میں مصروف رہیں اور چیئرمین این ایچ اے خود بحالی کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔







Discussion about this post