پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی شدید نعرے بازی اور احتجاج مہنگا پڑ گیا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایوان کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر پاکستان تحریک انصاف کے 26 ارکان کو پندرہ اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا، ساتھ ہی ان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے غیر پارلیمانی رویے کے پیش نظر کیا گیا۔ معطل شدہ ارکان نے گزشتہ روز مریم نواز کی تقریر کے دوران شدید نعرے بازی کی تھی، جس پر حکومتی بینچوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔اسپیکر ملک احمد خان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ایوان کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ "ایوان کی حرمت کو ہر حال میں مقدم رکھنا میری آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ 2014 میں بھی ایک مخصوص جماعت نے دھرنوں کے ذریعے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی، ہم اب ایسے عناصر کو دوبارہ ایسا موقع نہیں دیں گے۔”

اسپیکر نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ پارلیمانی نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ "جمہوری و پارلیمانی روایات کی پاسداری ہم سب پر لازم ہے۔ ہم آئین کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ اس کی پاسداری کرتے رہیں گے۔” ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی میں حکومتی جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور ایوان کو قواعد و ضوابط کے تحت چلانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ایوان کا تقدس پامال کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔” یاد رہے کہ مخصوص نشستوں سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی کو ایک اور بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، جو موجودہ سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔







Discussion about this post