بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد جہاں سفارتی سطح پر تناؤ میں کمی آئی، وہیں بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کو 17 مئی سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم، متعدد غیر ملکی کھلاڑیوں نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر واپسی سے گریز کا عندیہ دیا، جس پر بی سی سی آئی سخت دباؤ کا شکار ہو گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے کھلاڑیوں نے حالیہ کشیدہ حالات اور اطلاعات کی کمی کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، جس پر بی سی سی آئی اور بھارتی میڈیا نے شدید ردِعمل دیا۔ بورڈ نے فوری طور پر آسٹریلیا، انگلینڈ سمیت تمام کرکٹ بورڈز سے انفرادی رابطے شروع کر دیے تاکہ کھلاڑیوں کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔ بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر کو ہدایت دی ہے کہ غیر ملکی بورڈز سے بات کرکے کھلاڑیوں کو مطمئن کیا جائے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ فرنچائزز بھی اپنے کھلاڑیوں سے براہ راست رابطے میں ہیں تاکہ ایونٹ کی مکمل بحالی ممکن ہو سکے۔ ادھر کرکٹ آسٹریلیا نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کی ذاتی رائے کا احترام کرے گا اور کسی کو جبراً بھارت بھیجنے کا ارادہ نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کے حوالے سے فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کرے گی، جبکہ بھارتی بورڈ کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ آئی پی ایل کا فائنل 3 جون کو متوقع ہے، جس کے فوری بعد 11 جون سے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلا جائے گا، جس میں کئی آسٹریلوی کھلاڑی شامل ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ وہ آئی پی ایل میں واپسی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ آسٹریلوی ویمنز ٹیم کی کپتان اور اسٹارک کی اہلیہ، ایلیسا ہیلی نے دھرم شالہ میں اچانک میچ رکے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کی کمی کے باعث کھلاڑی خوف میں مبتلا ہو گئے تھے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو اب بھارت میں کھیلنے سے قبل حکومت سے باضابطہ سیکیورٹی کی یقین دہانی لینی چاہیے۔








Discussion about this post