اسلام آباد: پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی پیداوار، سرمایہ کاری، گاڑیوں کی برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور ہائبرڈ و ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
تاہم اس پالیسی کے اثرات صرف گاڑی خریدنے والے صارفین تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کے اثرات کار ساز کمپنیوں، آٹو پارٹس بنانے والوں، درآمد کنندگان، مقامی وینڈرز، صارفین اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج تک پہنچ سکتے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ہائبرڈ گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی مرحلہ وار کم ہوتی ہے تو کیا پاکستان میں گاڑیاں سستی ہوں گی؟ اور کیا PSX میں آٹو سیکٹر کے حصص کے لیے یہ پالیسی ایک نیا بُلش سائیکل شروع کرسکتی ہے؟
نئی آٹو پالیسی میں کیا تجویز کیا گیا ہے؟
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس میں آئندہ پانچ سال کے دوران مرحلہ وار کمی کی تجویز ہے۔
851 سے 1000 سی سی اور 800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی طرح 1501 سے 1800 سی سی اور 1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی پانچ سال کے دوران ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ہائبرڈ ٹرکوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد، ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر 60 فیصد سے 30 فیصد اور ہائبرڈ بسوں پر 30 فیصد سے 15 فیصد تک لانے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔
یہ تبدیلی پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔
پالیسی ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئی
دستیاب معلومات کے مطابق اسے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، اس کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی، وفاقی کابینہ اور پھرلیکن یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت پاکستان پہلے ہی آٹو سیکٹر میں ٹیرف اصلاحات اور درآمدی رکاوٹوں میں کمی کی سمت میں آگے بڑھنے کا وعدہ کرچکا ہے۔ آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق رپورٹ میں بھی نئی آٹو پالیسی کو ٹیرف میں بتدریج کمی اور آٹو سیکٹر کو زیادہ لبرلائز کرنے کے عمل سے جوڑا گیا ہے۔
اس لیے مارکیٹ کے لیے اصل محرک صرف پالیسی کا اعلان نہیں بلکہ حتمی پالیسی میں کیا شرائط شامل ہوتی ہیں اور ان پر عملدرآمد کتنی تیزی سے ہوتا ہے، یہ ہوگا۔
پاکستانی صارف کے لیے کیا بدلے گا؟
اگر ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی واقعی مرحلہ وار کم ہوتی ہے تو درآمدی ہائبرڈ گاڑیوں کی لاگت میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔
اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ:
- ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں پر دباؤ کم ہو۔
- صارفین کو زیادہ ماڈلز دستیاب ہوں۔
- ایندھن کی بچت کرنے والی گاڑیوں کی طلب بڑھے۔
- روایتی پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں ہائبرڈز زیادہ پرکشش بنیں۔
- نئی ٹیکنالوجی پاکستان کی مارکیٹ میں تیزی سے داخل ہو۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ہائبرڈ گاڑی فوراً سستی ہوجائے گی۔
گاڑی کی قیمت پر ڈیوٹی کے علاوہ ڈالر کا ریٹ، فریٹ، انشورنس، مقامی ٹیکس، کمپنی کا مارجن اور دیگر اخراجات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے موقع بھی، خطرہ بھی
نئی پالیسی کا سب سے بڑا سوال مقامی کار ساز کمپنیوں کے لیے ہے۔
اگر درآمدی ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی کم ہوتی ہے تو مقامی طور پر تیار ہونے والی روایتی پٹرول گاڑیوں کو زیادہ مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ خطرہ خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے اہم ہے جو ابھی تک روایتی انجن والی گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔
دوسری طرف یہی پالیسی مقامی کمپنیوں کو ہائبرڈ، الیکٹرک اور نئی انرجی وہیکلز کی مقامی پیداوار کی طرف تیزی سے منتقل ہونے پر مجبور کرسکتی ہے۔
پاکستان کی Competition Commission بھی اپنی 2026 کی آٹو انڈسٹری اسٹڈی میں طویل مدتی پالیسی، بہتر گاڑی فنانسنگ، مسابقت اور نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زور دے چکی ہے۔
یعنی مقابلہ بڑھنا لازمی طور پر بری خبر نہیں؛ اگر مقامی صنعت اس مقابلے کا جواب بہتر ٹیکنالوجی اور کم قیمت کے ساتھ دیتی ہے تو پوری صنعت زیادہ مضبوط ہوسکتی ہے۔






Discussion about this post