عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اتنی طویل نہیں ہوگی کہ ان کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہے، تاہم وائٹ ہاؤس کے بعض اعلیٰ حکام نے نجی طور پر تنازع کے طویل ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی۔ تازہ بیان میں بھی امریکی صدر نے جنگ کے جلد خاتمے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران زیادہ دیر تک امریکی دباؤ برداشت نہیں کرسکے گا۔
تاہم ٹرمپ کے اس پُراعتماد مؤقف کے برعکس وائٹ ہاؤس کے بعض اعلیٰ حکام نے جنگ کے ممکنہ دورانیے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے اور تنازع ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی کھنچ سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا بنیادی مقصد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا رہا ہے اور اس حوالے سے عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تازہ الزامات کو تکنیکی کے بجائے سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر جمعرات کے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کیا۔
ایرانی سفارت کار نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے خلاف دوبارہ سامنے آنے والے الزامات تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں۔
غلام حسین درزی نے خط میں یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مدت اکتوبر 2025 میں ختم ہوچکی ہے، اس لیے اس قرارداد کی بنیاد پر ایران کے خلاف نئے دعووں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
ایرانی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر تشویش اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ تہران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔
ایران جنگ کے اثرات صرف خطے کی فوجی اور سفارتی صورتحال تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے اور خطے میں جاری حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے اور 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی معیشت، توانائی کے اخراجات اور مہنگائی پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یوں ایک طرف واشنگٹن ایران جنگ کے جلد خاتمے کے امکانات ظاہر کررہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر عالمی الزامات مسترد کیے جانے اور خطے میں جاری کشیدگی نے تنازع کے مستقبل اور عالمی توانائی منڈی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہے۔






Discussion about this post