فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک عام مگر غیر معمولی انسان علی اکبر کو ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں شامل گرانڈ آرڈر آف میرٹ کا نائٹ قرار دے کر محنت کی خاموش عظمت کو سلام پیش کیا ہے۔ چوہتر سالہ علی اکبر گزشتہ پانچ دہائیوں سے پیرس کے تاریخی لاطینی کوارٹر میں کیفوں کے باہر اخبارات فروخت کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ وہ اس علاقے کی پہچان بن چکے ہیں۔ ان کی شائستگی، مستقل مزاجی اور لوگوں سے جڑنے کا انداز انہیں مقامی باشندوں میں بے حد محبوب بنا چکا ہے۔ یہ اعزاز انہیں فرانسیسی صدارتی محل میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں دیا گیا، جہاں علی اکبر کی برسوں پر محیط خدمات کو نہایت احترام کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ گرانڈ آرڈر آف میرٹ فرانس کا وہ اعزاز ہے جو قوم کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو عطا کیا جاتا ہے۔راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے علی اکبر سن 1973 میں پاکستان سے فرانس آئے تھے۔ ایک نئے ملک میں قدم رکھتے ہی انہوں نے محنت کا راستہ اپنایا اور اخبار فروشی کو اپنا ذریعۂ روزگار بنایا۔ ابتدا میں ان کا حلقہ سوربون یونیورسٹی اور اس کے اطراف کے تعلیمی اداروں تک محدود تھا، جہاں وہ طلبہ کو روزانہ کی خبریں پہنچایا کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ علی اکبر نے پیرس میں اخبار فروشی کی ایک خوبصورت روایت کو زندہ رکھا، جو آج شہر کی ثقافتی جھلک کا حصہ بن چکی ہے۔ ان کی سادہ مگر باوقار زندگی نے نہ صرف مقامی افراد بلکہ عالمی میڈیا کو بھی متاثر کیا۔ فرانسیسی صدر کی جانب سے دیا گیا یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ لگن، دیانت اور تسلسل سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے، اور یہ کامیابی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر اور حوصلہ افزائی کی علامت بن گئی ہے۔







Discussion about this post