وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے پاسپورٹ اور امیگریشن نظام میں ایک اہم اور دور رس تکنیکی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ ایک عارضی سفری دستاویز ہوتی ہے جو اُن پاکستانی شہریوں کو جاری کی جاتی ہے جو بیرونِ ملک کسی ہنگامی صورتحال میں اپنا پاسپورٹ گم کر بیٹھیں، چوری ہو جائے، ضائع ہو جائے یا تجدید کے لیے جمع ہونے کے باعث فوری طور پر وطن واپسی پر مجبور ہوں۔ یہ دستاویز مستقل پاسپورٹ کا نعم البدل نہیں بلکہ صرف پاکستان واپسی کے محدود مقصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ماضی میں ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے حصول کا عمل طویل کاغذی کارروائی، دستی تصدیق اور سفارت خانوں، نادرا اور دیگر اداروں کے درمیان سست رابطوں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں رہا۔ کئی مواقع پر پاکستانی شہری ہفتوں بلکہ مہینوں تک غیر یقینی صورتحال میں بیرونِ ملک پھنسے رہتے تھے۔ پاسپورٹ حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا کا پورا عمل آن لائن کر دیا گیا ہے اور اسے نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے براہِ راست منسلک کیا گیا ہے، جس سے شناخت کی تصدیق، درخواستوں کی جانچ اور منظوری کے مراحل نمایاں طور پر تیز ہو سکیں گے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ساتھ ساتھ پاکستانی پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز کو بھی بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اصلاحات سے جعلی دستاویزات، شناخت کے غلط استعمال اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ نئے طریقۂ کار کے تحت ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے خواہش مند پاکستانی شہری کو اُس ملک میں موجود پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کرنا ہوگا۔ پاسپورٹ گم یا چوری ہونے کی صورت میں مقامی پولیس رپورٹ کی کاپی فراہم کرنا ضروری ہو گی، جبکہ شناخت کے ثبوت کے طور پر قومی شناختی کارڈ، نادرا ریکارڈ یا پرانا پاسپورٹ (اگر دستیاب ہو) جمع کرانا ہوگا۔ اب یہ تمام درخواستیں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے بھی دی جا سکیں گی۔ درخواست موصول ہونے کے بعد سفارت خانہ نادرا اور متعلقہ اداروں سے ڈیٹا کی تصدیق کرواتا ہے، جو نئی اصلاحات کے بعد زیادہ تر آن لائن مکمل کی جاتی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام سے پہلے کے مقابلے میں وقت میں نمایاں کمی آئے گی، تاہم تصدیق کا دورانیہ کیس کی نوعیت اور دستاویزات کی دستیابی پر منحصر ہوگا۔ شناخت کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ جاری کیا جاتا ہے، جس پر عام طور پر محدود مدت اور مخصوص سفری راستہ درج ہوتا ہے۔ یہ دستاویز صرف پاکستان واپسی کے لیے قابلِ استعمال ہوتی ہے اور کسی تیسرے ملک کے سفر یا طویل قیام کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ بعض ممالک میں اس دستاویز پر خروج کی خصوصی اجازت بھی مقامی قوانین کے تحت دی جاتی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی درخواست گزار کے خلاف سنگین قانونی یا امیگریشن معاملات زیرِ التوا ہوں تو ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا میں تاخیر یا انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض کیسز میں میزبان ملک کی امیگریشن اتھارٹیز سے کلیئرنس کے بعد ہی دستاویز جاری کی جاتی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن پاکستان کے پاسپورٹ اور قونصلر نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ قونصلر ذرائع کے اندازوں کے مطابق صرف سال 2025 کے دوران ہزاروں پاکستانی شہریوں کو مختلف ممالک میں یہ عارضی سفری دستاویز جاری کی گئی، جن میں سب سے زیادہ کیسز خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر سے رپورٹ ہوئے۔ یورپی ممالک میں بھی پاکستانی سفارت خانوں کو ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے اجرا سے متعلق مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے، خاص طور پر اُن معاملات میں جہاں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہری قانونی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد وطن واپسی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔







Discussion about this post