پاکستان کے آٹو سیکٹر میں بڑی پیش رفت، یاماہا موٹر پاکستان لمیٹڈ نے موٹر سائیکل اسمبلی آپریشنز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ کاروباری حکمتِ عملی میں تبدیلی کے تحت کیا گیا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ مجاز ڈیلرز کے ذریعے اسپیئر پارٹس اور وارنٹی سروسز جاری رہیں گی، تاکہ صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ یاماہا 4 ماڈلز تیار کر رہی تھی جن کی قیمتیں 4 لاکھ 29 ہزار سے بڑھ کر تقریباً 5 لاکھ روپے تک جا پہنچی تھیں۔ مشہور ماڈل وائی بی آر 125، جو ابتدا میں ایک لاکھ 29 ہزار روپے میں لانچ ہوا تھا، روپے کی قدر میں کمی اور پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث ساڑھے چار لاکھ سے بھی اوپر پہنچ گیا۔

2012 میں یاماہا نے بن قاسم انڈسٹریل پارک میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے پلانٹ لگایا تھا، جس سے سالانہ 45 ہزار یونٹ بنانے کا ہدف تھا۔ ابتدا میں 200 ملازمین بھرتی کیے گئے اور 25 فیصد مقامی پرزہ جات کے ساتھ پیداواری عمل شروع ہوا۔ کمپنی کی پیداوار اور فروخت مالی سال 2019 میں عروج پر تھی، جب 24 ہزار سے زائد یونٹ تیار ہوئے اور 23 ہزار سے زیادہ فروخت ہوئے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ طلب میں کمی آئی اور مالی سال 2025 تک پیداوار اور فروخت کم ترین سطح پر جا پہنچی ،ماہرین کے مطابق صارفین کی گرتی ہوئی آمدنی، مہنگے ماڈلز پر توجہ اور چینی بائیکس کی کم قیمت نے یاماہا کو مارکیٹ میں کمزور کیا۔ مقامی ڈیلرز نے اسے وینڈرز اور ڈیلرز کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔ دوسری جانب پاکستان میں موٹر سائیکل کی مجموعی پیداوار بڑھ کر مالی سال 2025 میں 16 لاکھ 92 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو بڑھتی ہوئی طلب کا ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل الیکٹرک بائیکس کا ہے، اور بڑی کمپنیاں پہلے ہی اس سمت بڑھ رہی ہیں۔








Discussion about this post