میڈیا کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دنیا کو جھنجھوڑ دینے والا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ بارہ ماہ کے دوران دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں میں تقریباً نصف کی جان لیتا ہوا ملک اسرائیل ثابت ہوا، جو صحافیوں کے لیے سب سے بڑا اور سب سے مہلک خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2024 سے دسمبر 2025 تک 12 مہینوں کے دوران 67 صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہے، جب یہ تعداد 66 تھی۔ ان ہلاکتوں میں سب سے المناک اور خوفناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے صرف غزہ میں 29 فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنایا، جو عالمی سطح پر قتل ہونے والے تمام صحافیوں کا 43 فیصد بنتا ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق رواں سال کا سب سے دل دہلا دینے والا واقعہ 25 اگست کو جنوبی غزہ کے ایک اسپتال میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی بمباری میں پانچ صحافی شہید ہوئے۔ ان میں دو ایسے معاون رپورٹر بھی شامل تھے جو عالمی نیوز ایجنسیوں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے کام کرتے تھے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اکتوبر 2023 میں اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک تقریباً 220 صحافی غزہ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب اسرائیل دنیا میں صحافیوں کے قتل کے حوالے سے سب سے بڑا قاتل ملک قرار پایا ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی صحافی شدید خطرات کا شکار رہے۔ میکسیکو میں 2025 صحافیوں کے لیے گزشتہ تین برسوں میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال ثابت ہوا جہاں 9 صحافی قتل کیے گئے۔ یوکرین میں 3 جبکہ خانہ جنگی کے شکار سوڈان میں 4 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آر ایس ایف کے مطابق یکم دسمبر 2025 تک دنیا کے 47 ممالک میں مجموعی طور پر 503 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافت آج بھی دنیا کا وہ پیشہ ہے جس میں سچ بولنا کئی جگہ موت اور قید کی قیمت پر پورا کرنا پڑتا ہے۔یہ اعداد و شمار عالمی برادری کے لیے ایک سنگین سوال چھوڑ جاتے ہیں: کیا سچ لکھنے والے قلمکاروں کی حفاظت کا عالمی وعدہ صرف لفظوں تک محدود رہ گیا ہے؟







Discussion about this post