صحافیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد، وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز ایک نیا فیصلہ جاری کیا ہے جس کے تحت رپورٹرز کی رسائی ویسٹ وِنگ کے اہم دفاتر تک محدود کردی گئی ہے . ان دفاتر میں پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ اور ان کے سینئر معاونین کے دفتر بھی شامل ہیں۔قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کی جانب سے جاری ایک یادداشت کے مطابق، اب رجسٹرڈ صحافیوں کو کمرہ نمبر 140 جسے ’’اپر پریس‘‘ کہا جاتا ہے ، میں بغیر پیشگی اجازت یا اپائنٹمنٹ کے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یادداشت میں کہا گیا کہ یہ اقدام ’’حساس معلومات کے تحفظ‘‘ کے لیے کیا گیا ہے جو حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے بعد کمیونیکیشن ٹیم کے دائرہ کار میں آگئی ہیں۔دستاویز میں درج ہے:
’’ان حساس معلومات کے تحفظ اور قومی سلامتی کونسل اور وائٹ ہاؤس کمیونیکیشن اسٹاف کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے، صحافیوں کو کمرہ نمبر 140 میں بغیر پیشگی منظوری کے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘

اب صرف اپائنٹمنٹ پر رسائی ممکن
یہ فیصلہ اس علاقے تک فوری طور پر رسائی محدود کرتا ہے جو اوول آفس سے چند قدم کے فاصلے پر ہے، جہاں رپورٹرز روایتی طور پر اعلیٰ حکام سے فوری گفتگو کے لیے جایا کرتے تھے تاکہ معلومات کی تصدیق یا تبصرہ حاصل کرسکیں۔ اس سے قبل صحافیوں کو پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ، ان کے نائب اسٹیون چیونگ اور دیگر اعلیٰ معاونین تک کھلی رسائی حاصل تھی ۔ یہ روایتی عمل کئی دہائیوں سے ویسٹ وِنگ رپورٹنگ کا حصہ رہا ہے۔ اسٹیون چیونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ رپورٹرز نے ’’خفیہ طور پر ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ‘‘ کی، اور ’’حساس معلومات کی تصاویر‘‘ بھی لی ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کچھ صحافی ’’ممنوعہ علاقوں میں گھس گئے‘‘ یا ’’بند کمروں میں ہونے والی نجی ملاقاتوں پر کان لگاتے پائے گئے‘‘۔ چیونگ کا کہنا تھا کہ کابینہ کے ارکان کو ’’رپورٹرز کے گھات لگا کر سوال کرنے‘‘ کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

صحافیوں کا فیصلہ پر احتجاج
وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA) نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی آزادی اور حکومتی شفافیت پر ’’کاری ضرب‘‘ قرار دیا۔
ایسوسی ایشن کی صدر ویجیان جیانگ نے کہا:
’’وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن واضح طور پر ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتی ہے جو صحافیوں کی رسائی ان علاقوں تک محدود کرے جو طویل عرصے سے خبررسانی کے لیے کھلے ہیں۔ پریس سیکریٹری کے دفتر تک رسائی شفافیت اور احتساب کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘
تاہم، رپورٹرز کو اب بھی وائٹ ہاؤس کے ایک دوسرے مخصوص ورک اسپیس میں جانے کی اجازت ہوگی جہاں نچلی سطح کے کمیونیکیشن اہلکار موجود ہوتے ہیں۔
پینٹاگون کی سخت پالیسی کے بعد وائٹ ہاؤس کا نیا حکم
یہ نیا اقدام اُس وقت سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے بھی میڈیا پر سخت شرائط عائد کی تھیں، جن کے تحت درجنوں صحافیوں کو دفاتر خالی کرنا پڑے کیونکہ انہوں نے نئی میڈیا ایکسس پالیسی پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔اس پالیسی کے مطابق، رپورٹرز کو اس بات کی تصدیق کرنی ہوتی ہے کہ اگر وہ قومی سلامتی کے لیے ’’خطرہ‘‘ قرار پائے جائیں یا کسی ملازم سے بعض حساس یا خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں تو ان کے پریس کارڈ منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔کم از کم 30 میڈیا اداروں، جن میں رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور بلومبرگ نیوز شامل ہیں، نے ان شرائط کو ’’آزاد صحافت کے لیے براہِ راست خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔یہ فیصلہ 1993 کی اس مثال کی یاد دلاتا ہے جب صدر بل کلنٹن کے دور میں بھی عارضی طور پر میڈیا کی ویسٹ وِنگ تک رسائی محدود کردی گئی تھی تاہم عوامی دباؤ کے بعد یہ پالیسی جلد واپس لے لی گئی تھی۔ اسی طرح ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس سال کے آغاز میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب رائٹرز، اے پی، اور بلومبرگ جیسے بڑے اداروں کو صدارتی ’’پریس پول‘‘ سے نکال دیا گیا تھا، اگرچہ انہیں ایڈہاک کوریج کی اجازت برقرار رہی۔جمعے کے اس اعلان نے موجودہ دورِ حکومت میں بڑھتی ہوئی میڈیا پابندیوں کے خدشات کو مزید گہرا کردیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سرکاری کارروائیوں پر عوامی نگرانی کو محدود کرنے کی منظم کوشش ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے عالمی اداروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے، کیونکہ یہ اقدام مستقبل میں حکومت اور میڈیا کے تعلقات کے لیے خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔







Discussion about this post