امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس سے محض چند گلیوں کے فاصلے پر ہونے والی گھات لگاکر فائرنگ نے ایک اور المناک داستان رقم کر دی۔ نیشنل گارڈز کی جواں عزم اہلکار سارا بیک اسٹروم بالآخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ ان کی موت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تھینکس گیونگ کے روز سروس ممبرز سے گفتگو کے دوران اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی۔ انہوں نے 20 سالہ سارا بیک اسٹروم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک، باوقار اور شاندار انسان تھیں۔ جون 2023 میں سروس جوائن کرنے والی یہ نوجوان اہلکار ہر معیار پر بہترین ثابت ہوئیں۔ صدر ٹرمپ نے افغان نژاد حملہ آور کے بھی شدید زخمی ہونے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ نیشنل گارڈز سمیت تمام سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں، اور ان پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ وینزویلا کو حدود میں رکھنے کے لیے جلد فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی بی 2 بمبار طیاروں نے 37 گھنٹے طویل فلائٹ کے بعد اپنے ہدف کو پوری کامیابی سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے پائلٹس سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پائلٹس انہیں ایکشن فلموں کے ہیرو ٹام کروز کی یاد دلاتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مزید بی 2 بمبار طیاروں کی خریداری کے بڑے آرڈر پر بھی دستخط کر دیے۔ گزشتہ روز پیش آنے والے حملے میں سارا کے ہمراہ 24 سالہ ایئر فورس سارجنٹ اینڈریو وولف بھی شدید زخمی ہوئے۔ تیز رفتار اور اچانک کیے گئے ایمبوش میں دونوں اہلکاروں کو اپنے دفاع کا موقع تک نہ مل سکا۔ یہ دونوں وہی نیشنل گارڈز اہلکار تھے جنہیں صدر ٹرمپ کی ہدایات پر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے اگست میں واشنگٹن ڈی سی بھیجا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دوسرا زخمی اہلکار زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی حالت انتہائی نازک ہے۔

واقعے کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ حملہ آور 29 سالہ رحمان لکنوال افغان نژاد امریکی شہری ہے، جو ماضی میں افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ کام کر چکا تھا۔ اس حملے کے ردعمل میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ افغانستان سمیت 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈرز اور مستقل رہائشیوں کے امیگریشن اسٹیٹس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے کہا کہ ان ممالک کے ہر شخص کی تفصیلی اور سخت جانچ پڑتال کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جنہیں ٹرمپ کے سابق حکمنامے میں تشویش کے زمرے میں رکھا گیا تھا، جن میں افغانستان، ایران، یمن، لیبیا، سوڈان، صومالیہ، چاڈ اور میانمار سمیت کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔ بدھ کے روز حملے میں ملوث لکنوال 2021 میں ’آپریشن ایلیز ویلکم‘ کے تحت امریکہ آیا تھا، جو اس پروگرام کا حصہ تھا جس میں امریکہ نے ان افغان شہریوں کو پناہ دی تھی جو جنگ کے دوران امریکی افواج کے معاون رہے اور جنہیں طالبان سے انتقامی کارروائیوں کا خطرہ تھا۔۔







Discussion about this post