امریکا نے وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک غیر معمولی اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ نیشنل گارڈز پر حملے کے فوری بعد کیا گیا، جس نے واشنگٹن کے سیکیورٹی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ واقعے کے مطابق وائٹ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر ایک مشتبہ شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو امریکی اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ گرفتار حملہ آور کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان لکنوال کے طور پر ہوئی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ دونوں زخمی اہلکاروں کی حالت اب بھی نازک ہے، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

واقعے کے بعد امریکی سیٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اعلان کیا کہ تمام افغان امیگریشن درخواستوں کا ازسرِنو مکمل سکیورٹی آڈٹ کیا جائے گا۔ اس دوران تمام زیرِ التوا درخواستیں روک دی گئی ہیں اور نئی درخواستیں بھی قبول نہیں کی جائیں گی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی پروٹوکول اور جانچ کے نظام کو ایک بار پھر سخت معیارات کے تحت پرکھا جائے گا، اور نئے حفاظتی اقدامات کی منظوری کے بعد ہی افغان شہریوں کی درخواستوں پر دوبارہ کارروائی شروع کی جائے گی۔ یہ فیصلہ ہزاروں افغان شہریوں کے لیے بڑے تعطل کا سبب بنے گا، جبکہ واشنگٹن میں پیش آنے والے اس واقعے نے امریکا کی امیگریشن پالیسیز اور سیکیورٹی اقدامات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔








Discussion about this post