امریکا کی قدامت پسند سیاست کی نوجوان آواز، ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے سی ای او اور شریک بانی چارلی کرک یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں خطاب کے دوران گولی کا نشانہ بنے، اور ملک بھر میں ہلچل مچ گئی۔
The White House flags have officially been lowered to half mast in honor of a truly great American, @charliekirk11
Rest in Peace 🙏🏼❤️ pic.twitter.com/n69VA3UTKi
— Margo Martin (@MargoMartin47) September 10, 2025
یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب کرک اپنے منفرد ’’Prove Me Wrong‘‘ سیشن میں طلبہ کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ اچانک ایک زور دار دھماکے جیسی آواز ابھری، اور لمحہ بھر میں مجمع خوف و وحشت میں ڈوب گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، کرک نے اپنا ہاتھ گردن کی طرف بڑھایا اور کرسی سے گر پڑے، خون کی لپٹیں منظر کو دہلا دینے کے لیے کافی تھیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گولی لگتے ہی ہجوم منتشر ہو گیا، لوگ اپنی جان بچانے کے لیے چیختے چلاتے باہر نکلنے لگے۔ لمحوں میں پرجوش تقریب افراتفری اور خوف کا منظرنامہ بن گئی۔
"The Great, and even Legendary, Charlie Kirk, is dead. No one understood or had the Heart of the Youth in the United States of America better than Charlie. He was loved and admired by ALL, especially me, and now, he is no longer with us. Melania and my Sympathies go out to his… pic.twitter.com/aM8Pz3TKml
— The White House (@WhiteHouse) September 10, 2025
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے قریبی ساتھی کو ’’عظیم‘‘ اور ’’لیجنڈری‘‘ شخصیت قرار دیا۔ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’’چارلی کرک حقیقی معنوں میں ایک بے مثال رہنما تھے‘‘۔ صدر کے حکم پر وائٹ ہاؤس سمیت پورے امریکا میں پرچم سرنگوں کر دیے گئے۔ چارلی کرک اور ان کی تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے نے حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کے لیے نوجوان ووٹروں کو متحرک کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر ہونے والا یہ حملہ نہ صرف ایک فرد پر وار ہے بلکہ قدامت پسند تحریک کے دل پر کاری ضرب سمجھا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق واقعے میں ابھی تک کوئی مشتبہ شخص زیرِ حراست نہیں ہے، تفتیش جاری ہے اور ملک بھر کی نظریں اس کیس کی پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں۔ یہ المناک واقعہ اُس وقت رونما ہوا جب کرک ملک گیر ’’امریکن کم بیک ٹور‘‘ کے پہلے ایونٹ میں شریک تھے۔ جس اجتماع کا مقصد نوجوانوں کو سیاست میں متحرک کرنا تھا، وہ خود امریکی سیاست کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا عنوان بن گیا۔







Discussion about this post