امریکی ٹی وی چینل سی این این نے ایک اہم امکان ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ہونے والے اگلے دور مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق اگر جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ ایک اور اہم ملاقات طے پاتی ہے تو امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کے حوالے کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔ امریکی میڈیا کے ذرائع بتاتے ہیں کہ اس وفد میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے، جو مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ آئندہ دو دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سب سے حساس اور پیچیدہ معاملہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کا ہے۔ امریکا افزودگی کے دورانیے پر سخت موقف رکھتا ہے جبکہ ایران سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی نقل و حرکت بحال ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ آئندہ مذاکرات نہ صرف خطے میں موجود کشیدگی کو کم کرنے میں اہم ہوں گے بلکہ عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک بار پھر ثابت کر رہی ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے پیچیدہ ترین مسائل کو حل کرنے کی راہ اب بھی موجود ہے۔







Discussion about this post