امریکا اور ایران کے درمیان چھڑی ہوئی کشیدگی نے ایک حیران کن اور امید افزا موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو مزید دس دن کے لیے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف خطے کے مستقبل کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ امن کی ایک نئی صبح کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک طاقتور اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی درخواست پر انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس کی تباہی کا عمل چھ اپریل تک ملتوی کر دیا ہے۔ ان کے الفاظ میں واضح جھلکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات نہایت مثبت اور نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے کچھ میڈیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار ہی کیوں نہ کرے۔ ایک خوبصورت سفارتی تحفے کی صورت میں ایران نے آبنائے ہرمز میں پاکستانی پرچم لہراتے دس تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے کر اپنی سنجیدگی کا ثبوت دیا۔ یہ اقدام نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی کو یقینی بنانے کی طرف ایک قدم ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ تہران جنگ بندی کی راہ پر چلنے کو تیار ہے۔ ٹرمپ نے اسے خیر سگالی کا واضح اشارہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران حقیقی معنوں میں سنجیدہ ہو جائے، کیونکہ ایک بار موقع ضائع ہوا تو واپسی کا راستہ بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے کابینہ اجلاس میں صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے پرجوش انداز میں بتایا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مضبوط اور مثبت پیغامات مل رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا نے ایران کو پندرہ نکات پر مشتمل ایک جامع ایکشن لسٹ پیش کی ہے، جو امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی عہدیداروں نے امریکی تجاویز کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ کہا، مگر یہ بھی تسلیم کیا کہ سفارت کاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ تہران کی پالیسی مزاحمت اور خود دفاعی پر مبنی رہے گی، تاہم مذاکرات کا مکمل انکار نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں ایران کو بار بار یہ یاد دلایا کہ یہ فیصلہ کن لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے موقع ضائع کیا تو نتیجہ موت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ پھر بھی ان کا لہجہ امید سے بھرا تھا جب انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہونے کے اچھے امکانات ہیں اور یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہو گی۔ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے اپنے دفاع کے وزیر کی تعریف کی اور کہا کہ امریکا جنگ کے ساتھ ساتھ امن کی راہ بھی کھلی رکھے گا۔ ادھر یمن کے حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے بھی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنا عسکری کردار ادا کریں گے، مگر وفاداری کا جذبہ ان کے بیان میں نمایاں تھا۔







Discussion about this post