امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بیرونِ ملک سفارتی ڈھانچے میں بڑی اور غیر معمولی تبدیلی کرتے ہوئے مختلف ممالک میں تعینات تقریباً 30 سفارت کاروں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز حکام کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو امریکی خارجہ پالیسی کو نئی سمت دینے کی ایک واضح کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو صدر ٹرمپ کے ’امریکہ فرسٹ‘ وژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محکمہ خارجہ کے دو باخبر ذرائع نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 29 ممالک میں تعینات مشنز کے سربراہوں کو گزشتہ ہفتے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ان کی مدت جنوری کے اختتام پر ختم کر دی جائے گی۔ یہ تمام سفارت کار سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں مقرر ہوئے تھے اور صدر ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتدائی چھانٹی کی کارروائی سے بچ نکلے تھے۔ چتاہم بدھ کے روز صورتحال اس وقت یکسر بدل گئی جب واشنگٹن سے انہیں باضابطہ نوٹس موصول ہونا شروع ہوئے، جن میں جلد از جلد واپسی کی تیاریوں سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق سفیر صدر کی صوابدید پر کام کرتے ہیں اور عموماً تین سے چار سال کی مدت کے لیے تعینات رہتے ہیں، تاہم نئی انتظامیہ اس روایت کو محدود دائرے میں دیکھنے کی خواہاں ہے۔ اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر افریقی ممالک ہوئے ہیں، جہاں 13 سفیروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔ ان ممالک میں برونڈی، کیمرون، کیپ وردے، گبون، آئیوری کوسٹ، مڈغاسکر، ماریشس، نائجر، نائجیریا، روانڈا، سینیگال، صومالیہ اور یوگنڈا شامل ہیں۔ ایشیا دوسرے نمبر پر ہے، جہاں فجی، لاؤس، مارشل آئی لینڈ، پاپوا نیو گنی، فلپائن اور ویت نام میں تعینات سفیروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ یورپ کے چار ممالک آرمینیا، میسیڈونیا، مونٹینیگرو اور سلوواکیہ بھی اس فیصلے کی زد میں آئے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں الجیریا اور مصر متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی وسطی ایشیا میں نیپال اور سری لنکا، جب کہ لاطینی امریکا سے گوئٹے مالا اور سورینام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واپس بلائے جانے والے سفارت کار فارن سروس سے خارج نہیں کیے جا رہے اور اگر وہ چاہیں تو واشنگٹن واپسی پر انہیں نئی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔ محکمہ خارجہ نے متاثرہ سفیروں کی درست تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے اس اقدام کا دفاع کیا ہے اور اسے انتظامی سطح پر کیا جانے والا معمول کا عمل قرار دیا ہے۔محکمے کے مطابق سفیر صدر کا ذاتی نمائندہ ہوتا ہے اور صدر کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ بیرونِ ملک تعینات نمائندے ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھائیں۔ اس فیصلے پر سب سے پہلے پولیٹیکو نے رپورٹ شائع کی تھی، جس کے بعد بعض امریکی قانون سازوں اور سفارت کاروں کی نمائندہ یونین کی جانب سے تشویش اور تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔







Discussion about this post