امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے H-1B ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کے فیصلے کو سخت قانونی مخالفت کا سامنا ہے، جہاں کیلیفورنیا سمیت بیس امریکی ریاستوں نے وفاقی عدالت میں فوری کارروائی کے لیے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اتنی بھاری فیس عائد کرنے کا ٹرمپ کو کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، اور یہ اقدام امریکی وفاقی قانون کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا کے مطابق ویزا فیس کا مقصد صرف انتظامی اخراجات پورے کرنا ہے، جبکہ ایک لاکھ ڈالر کی فیس اس قانونی دائرہ کار سے کئی گنا زیادہ ہے۔
H-1B ویزا پروگرام امریکی کمپنیوں کو عالمی معیار کے ماہرین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی خدمات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، تعلیم اور صحت کے شعبے اس پر انحصار کرتے ہیں۔ بونٹا نے خبردار کیا کہ نئی فیس تعلیمی اداروں اور اسپتالوں پر اضافی مالی دباؤ ڈالے گی، جس سے انسانی وسائل کی کمی مزید بڑھ سکتی ہے اور عوامی خدمات متاثر ہونے کا امکان ہے۔

درخواست میں نیویارک، میساچوسٹس، الی نوائے، نیو جرسی اور واشنگٹن جیسی اہم ریاستیں بھی شامل ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ یہ فیس قانونی ہے اور اس کا مقصد H-1B پروگرام کے مبینہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔یہ مقدمہ کئی دیگر قانونی چیلنجز میں سے ایک ہے، جن میں امریکی چیمبر آف کامرس، مختلف کاروباری، مذہبی اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہیں، جو اس فیس کو عدالت میں چیلنج کر چکی ہیں۔ وفاقی جج آئندہ ہفتے اس سنگین معاملے پر سماعت کریں گے، جس کے فیصلے کے اثرات امریکی امیگریشن اور کاروباری شعبے پر نمایاں ہوں گے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے حکم کے تحت نئے H-1B ویزا رکھنے والے افراد کو امریکا میں داخلے کی اجازت اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک متعلقہ کمپنی ایک لاکھ ڈالر فیس ادا نہ کرے، تاہم یہ پابندی پہلے سے موجود ویزا ہولڈرز یا 21 ستمبر سے قبل درخواست دینے والوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ یہ قدم امریکی امیگریشن کے منظرنامے میں ہلچل مچا دینے والا اور کاروباری، تعلیمی اور صحت کے شعبے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ثابت ہونے والا ہے۔







Discussion about this post