متحدہ عرب امارات نے آرٹیفیشل انٹیلجنس کے بے لگام استعمال پر تاریخی اقدام اٹھا لیا۔ اب کوئی بھی شخص مشہور شخصیات یا قومی علامتوں کی تصویر کشی بغیر اجازت کرے گا تو سیدھا قانون کے شکنجے میں آ جائے گا۔ اماراتی میڈیا کونسل نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے جعلی تصویریں، گمراہ کن مواد اور شخصیت سازی محض اخلاقی جرم نہیں بلکہ سنگین قانونی خلاف ورزی ہے، جس کی سزا بھاری جرمانے اور سخت کارروائی کی صورت میں دی جائے گی۔ انتباہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں صرف میڈیا قوانین ہی نہیں توڑتیں بلکہ معاشرتی اقدار اور پیشہ ورانہ دیانت کو بھی داغدار کرتی ہیں۔ کونسل نے عوام کو ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
"اے آئی کے نام پر کسی کی شناخت مت چُرائیں، نہ جھوٹا پروپیگنڈا کریں اور نہ ہی سماجی ہم آہنگی پر وار کریں، ورنہ قانون کا ہاتھ بہت سخت ہے۔”

حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا ریگولیشن کو غیر معمولی طور پر سخت کیا ہے تاکہ عوام کو جعلی خبروں اور خطرناک مواد کے سیلاب سے محفوظ رکھا جا سکے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں، یہ فیصلہ مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ عالمی شہرت یافتہ شخصیات بارہا شکایت کر چکی ہیں کہ ان کے چہرے اور آوازیں اے آئی ٹولز کے ذریعے جعل سازی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے ماہ سے یو اے ای میں نیا اشتہاری لائسنس سسٹم بھی نافذ ہو رہا ہے۔ اب تک 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے 1800 سے زائد افراد کو اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امارات میڈیا ریگولیشن میں عالمی معیار قائم کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی کی گئی جس نے بغیر منظوری طبی دعوؤں پر مبنی اشتہار پھیلایا۔ میڈیا کونسل نے اسے "گمراہ کن اور غیر معیاری” قرار دیتے ہوئے ایک واضح پیغام دے دیا کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے، چاہے وہ عام شہری ہو یا مشہور شخصیت۔







Discussion about this post