امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو اپنی طاقت اور عزم کا جوشیلا پیغام سنایا ہے، جہاں انہوں نے امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے کو تاریخی سطح پر بلند قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں، امریکا کے پاس اب ہتھیاروں کا ایسا ذخیرہ ہے جو اوسط سے کہیں زیادہ ہے، ایسا ذخیرہ جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ موجودہ ہتھیاروں کی طاقت کے ساتھ نہ صرف لامتناہی جنگ لڑی جا سکتی ہے بلکہ اسے کامیابی کے ساتھ جیتا بھی جا سکتا ہے۔ بیرون ملک موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی بہترین اور جدید ترین ہتھیاروں کا زبردست ذخیرہ موجود ہے، جو کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ کے قیمتی ہتھیاروں کو یوکرین کے صدر زیلنسکی کے حوالے کر کے خالی کر دیا۔ سیکڑوں ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار مفت میں دیے گئے، جبکہ نئے ذخیرے کی تعمیر اور بحالی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایک ایسی غلطی جو امریکہ کی طاقت کو کمزور کرنے والی ثابت ہوئی۔ ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا بیان اور بھی سخت اور فیصلہ کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل خطے کے لیے سنگین خطرہ تھے اور اب بھی ہیں۔

ایران نہ صرف طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا تھا بلکہ جوہری ہتھیاروں کی طرف بھی پیش قدمی کر رہا تھا۔ صدر نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی اہم سائٹس کو نشانہ بنایا، ماضی میں ایرانی جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کیے، اور اب بھی یہ یقینی بنانا اولین ترجیح ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران میں زمینی فوج بھی اتاری جا سکتی ہے، کیونکہ ایران کے پاس امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت والے میزائل موجود تھے۔ ٹرمپ نے مزید انکشاف کیا کہ حالیہ کارروائیوں میں ایران کے 49 اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کی گئی تھی، مگر اس نے وارننگز کو نظر انداز کر دیا۔ اب ایران کے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے، اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو ایران میں بہت جلد ایک بڑی اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے۔







Discussion about this post