امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک غیر متوقع اور چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہوئے عالمی مبصرین، سفارتی حلقوں اور میڈیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ مظاہرین کو یہ امید دلانے کے باوجود کہ مدد راستے میں ہے، اور مکمل عسکری تیاریوں کے باوجود ایران پر فوری حملہ نہ کرنے کا فیصلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک غیر معمولی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا عرب ممالک یا اسرائیلی قیادت نے انہیں ایران پر فوری فوجی کارروائی سے روک دیا تھا۔ اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ، مشورے یا سفارتی درخواست کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کا ذاتی اور سوچا سمجھا اقدام ہے، جس کے پیچھے ایک اہم وجہ کارفرما ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود کو قائل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے ایک دن قبل 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں کسی بھی مظاہر کو پھانسی نہیں دی گئی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ سزائیں منسوخ کر دی گئی ہیں تو انہوں نے بھی ایران پر حملے کے فیصلے پر نظرثانی کی۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کو اب تک کا سب سے واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کے تناظر میں فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ انسانی بنیادوں پر کیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایرانی حکام نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ مظاہرین کے قتل کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس مؤقف کی تائید کی گئی اور بتایا گیا کہ بدھ کے روز متوقع 800 سزائے موت منسوخ کر دی گئی تھیں۔ تاہم اس معاملے میں ابہام بھی سامنے آیا، کیونکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سزاؤں کی تاریخ بدھ بتائی، جبکہ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں جمعرات کا حوالہ دیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران نے سرکاری سطح پر کبھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ 800 مظاہرین کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ موجود تھا۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میں اس بات کا احترام کرتا ہوں کہ ایران کی قیادت نے 800 سے زائد طے شدہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا۔ اس فیصلے پر شکریہ۔ دوسری جانب ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک 3,428 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جو ایران میں جاری بحران کی سنگینی اور انسانی المیے کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایک بار پھر اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک لمحہ، ایک فیصلہ اور ایک انسانی پہلو پورے خطے کی تقدیر پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔







Discussion about this post