امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن لمحہ بہ لمحہ پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مظاہروں کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور امریکی قیادت تمام ممکنہ مضبوط آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے لیے رابطے کا پیغام بھی موصول ہوا ہے، جسے اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ایران کسی بھی لمحے سخت ردعمل دے سکتا ہے، جس کے باعث فیصلے انتہائی احتیاط سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ بریفنگ میں کسی حتمی لائحہ عمل پر اتفاق نہ ہو سکا، تاہم صدر ٹرمپ منگل کے روز اپنے مشیروں سے ایک اور اہم ملاقات کریں گے۔
اسی دوران امریکی صدر نے ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے رابطہ کرنے کے امکان کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ادھر ایران میں مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی ہلاکت پر حکومت نے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ جنازوں میں ہزاروں افراد کی شرکت نے صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا، جب کہ فضا سوگ اور غصے سے بوجھل دکھائی دی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے احتجاجی لہر کو امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بیرونِ ملک سے دہشت گرد عناصر کو ایران بھیجا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مساجد کو نذرِ آتش کیا گیا اور دانستہ طور پر امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں اور صورتحال قابو سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 538 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ دس ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مظاہرین کے حملوں کے نتیجے میں 114 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ صوبہ خراسان میں کارروائی کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق زیرِ حراست ملزمان کے قبضے سے جاسوسی کے آلات اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے، جسے ایک بڑی سیکیورٹی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔







Discussion about this post