امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک موقع پر ایٹمی جنگ چھڑنے والی تھی، جسے انہوں نے اپنی سفارتی مہارت سے ٹال دیا۔ٹرمپ نے فخر سے بتایا کہ اُس نازک گھڑی میں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں فون کر کے کہا:
"مسٹر پریزیڈنٹ، آپ نے لاکھوں زندگیاں بچا لیں۔”
Trump:
Prime Minister of Pakistan said so beautifully — you saved millions of lives.
I think he’s referring to the fact that that would have been with India, nuclear war that was getting very close.
Seven planes — they don’t talk about it, but seven aircraft were shot down. pic.twitter.com/PY701CULKE
— Clash Report (@clashreport) October 15, 2025
امریکی صدر نے کہا کہ دنیا کو شاید اندازہ نہیں کہ وہ اب تک آٹھ بڑی جنگوں کو پھوٹنے سے روک چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ان میں سے کئی تنازعات معمولی اختلافات سے شروع ہو سکتے تھے، لیکن اگر انہیں نہ روکا جاتا تو نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت جیسی دو جوہری طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم محض جنوبی ایشیا نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کو نگل سکتا تھا۔ اسی دوران انہوں نے بھارت پر تنقید کے تیر بھی چلائے اور انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت اب روس سے تیل نہیں خریدے گا۔ انہوں نے کہا،
“مجھے یہ بات پسند نہیں تھی کہ بھارت روس سے تیل لے رہا ہے، مگر اب یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو چکا ہے۔”
ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے غیر مسلح کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ اب ایران نے بھی حماس سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح یوکرین جنگ کا خاتمہ اور چین کے ساتھ جاری تجارتی محاذ آرائی کو امریکی مفادات کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے موقع پر موجود صحافیوں کے سامنے بائیڈن انتظامیہ پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمۂ انصاف نے ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں اور ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ کو بارہا تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ
“نینسی پلوسی تو میرے بیٹے کو عمر قید دلوانا چاہتی تھیں!”
ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ٹیرف پالیسی کے دفاع میں سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ امریکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ان کا دعویٰ تھا کہ وہ چھ جنگوں کو صرف تجارتی ٹیرف کے ذریعے روک چکے ہیں۔اختتام پر انہوں نے اپنے مخصوص اعتماد سے کہا:
“میں نے دنیا کو جنگ کے دہانے سے واپس لایا ، اور یہ صرف باتوں سے نہیں، عمل سے ممکن ہوا۔”







Discussion about this post