امریکی سیاست ایک بار پھر ہلچل میں ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے معتبر ترین اخبار نیو یارک ٹائمز اور اس کے چار صحافیوں کے خلاف 15 ارب ڈالر کے ہرجانے کا تاریخی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ برسوں کی یکطرفہ اور من گھڑت رپورٹنگ نے ان کی ساکھ، انتخابی مہم اور کاروباری وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ان کے وکلاء نے یہ مقدمہ فلوریڈا کی فیڈرل کورٹ میں جمع کرایا ہے، جہاں تین تحقیقی مضامین اور ایک کتاب کو بطور شواہد پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ کی جانب سے ڈیموکریٹک امیدوار اور موجودہ نائب صدر کاملا ہیرس کی کھلی حمایت کو بھی دعوے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

صدر کا الزام ہے کہ نیو یارک ٹائمز نے ان کے خاندان، کاروباری معاملات اور "امریکا فرسٹ” تحریک کو مسخ شدہ انداز میں پیش کر کے نہ صرف انہیں سیاسی میدان میں دھچکا پہنچایا بلکہ قانونی مشکلات میں بھی گھیرنے کی کوشش کی۔ ادھر نیو یارک ٹائمز نے مقدمے کو "بے بنیاد اور غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آزادیٔ صحافت کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔ اخبار کا مؤقف ہے کہ ان کی رپورٹنگ شواہد پر مبنی اور عوامی مفاد میں کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کا دعویٰ عدالت میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ امریکی میڈیا پر ایک زلزلہ ثابت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ادارتی آزادی بلکہ صحافت کی بقا کے لیے بھی ایک نیا اور کڑا امتحان ہوگا۔







Discussion about this post