وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ محکمہ دفاع (Department of Defense) کا نام بدل کر دوبارہ ’محکمہ جنگ‘ (Department of War) رکھنے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ موجودہ نام غیر ضروری طور پر "دفاعی” تاثر دیتا ہے جبکہ نیا عنوان طاقت اور عزم کی علامت ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی سرکاری دستاویز کے مطابق، صدر ٹرمپ اس مقصد کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے، جس کے تحت محکمہ جنگ کو باضابطہ طور پر ایک "ثانوی عنوان” کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، کیونکہ موجودہ سرکاری نام قانون میں درج ہے اور فوری طور پر بدلا نہیں جا سکتا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نام کی یہ تبدیلی "تیاری اور پُرعزم ارادے کا زیادہ طاقتور پیغام دیتی ہے۔” صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں میں کئی بار زور دیا تھا کہ وہ اس تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ 25 اگست کو صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا:
"جب ہم نے پہلی عالمی جنگ جیتی، دوسری عالمی جنگ جیتی، جب ہم نے سب کچھ جیتا، تب اس کا نام محکمہ جنگ تھا۔”
یاد رہے کہ امریکی آزادی کے ابتدائی دنوں میں محکمہ جنگ زمینی افواج کا نگراں ادارہ تھا، جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد بحریہ اور فضائیہ کے ساتھ یکجا کرکے "نیشنل ملٹری اسٹیبلشمنٹ” بنایا گیا اور 1949 میں اس کا نام "محکمہ دفاع” رکھ دیا گیا۔

نئی ہدایت کے مطابق، سیکریٹری آف وار کو قانون سازی اور انتظامی اقدامات کی سفارش کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ مستقبل میں محکمے کا مستقل نام بھی تبدیل کیا جا سکے۔ اس دوران ایگزیکٹو شاخ کو اختیار ہوگا کہ وہ سرکاری مراسلت، عوامی بیانات اور رسمی مواقع پر "محکمہ جنگ” کا عنوان استعمال کرے۔







Discussion about this post