امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی واضح تجارتی معاہدہ طے نہ پایا تو بھارتی مصنوعات کو امریکی منڈی میں 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "بھارت اگرچہ ہمارا دوست ہے، لیکن عالمی سطح پر سب سے زیادہ درآمدی محصولات عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تاحال کوئی جامع تجارتی معاہدہ نہیں ہو سکا اور اگر بھارت کی جانب سے سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو امریکی حکومت بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات کے نفاذ میں تاخیر نہیں کرے گی۔ صدر ٹرمپ نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اپریل میں بھارتی مصنوعات پر 26 فیصد ٹیرف کی تجویز دی گئی تھی، تاہم اس فیصلے کو عارضی طور پر جولائی تک مؤخر کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت میں ٹیسلا کا مینوفیکچرنگ پلانٹ رکوانے کا فیصلہ بھی کر چکے ہیں، جسے انہوں نے امریکی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ صرف بھارت تک محدود نہیں، بلکہ صدر ٹرمپ نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو بھی وارننگ دی ہے کہ اگر اس کی مصنوعات امریکا میں تیار نہ ہوئیں تو اسے بھی 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا،
"ہم چاہتے ہیں کہ جو آئی فون امریکا میں بکتا ہے، وہ امریکا میں ہی تیار ہو۔ اگر وہ بھارت یا کسی اور ملک میں تیار ہوگا تو ایپل کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔”







Discussion about this post